ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان CDS بپن راوت نے کیا اروناچل پردیش کا دورہ، جوانوں سے کہا- الرٹ رہیں

India-China Standoff: مشرقی لداخ میں تعطل کے پیش نظر چین کے ساتھ تقریباً 3,500 کلو میٹر لمبی حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر فوج اور فضائیہ اعلیٰ سطح کی تیاریاں رکھ رہی ہیں۔

  • Share this:
چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان CDS بپن راوت نے کیا اروناچل پردیش کا دورہ، جوانوں سے کہا- الرٹ رہیں
چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان CDS بپن راوت نے کیا اروناچل پردیش کا دورہ، جوانوں سے کہا- الرٹ رہیں

نئی دہلی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت (Chief of Defence Staff General Bipin Rawat) نے اتوار کو اروناچل پردیش (Arunchal Pradesh) میں لائن آف حقیقی کنٹرول (Line of Actual Control) کے پاس دیگر پیشگی چوکیوں کے اپنے دو روزہ دورے کے آخر میں کہا کہ وہ مسلح افواج کے اہلکاروں کے بلند حوصلے سے مطمئن ہیں، ’جو موقع دیئے جانے پر یا چیلنج ملنے پر جیت یقینی کریں گے’۔ جنرل بپن راوت نے مشرقی لداخ (Northern Ladakh) میں چین اور ہندوستان (Indian & China) کے درمیان تقریباً 8 ماہ سے جاری تعطل کے درمیان سرحد سے متصل ریاستوں میں اہم مقامات کا دورہ کیا۔


فوج نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’سی ڈی ایس نے مقامی طور پر میڈیم ٹکنالوجی کے ذریعہ نگرانی کے جدید طریقے اپنانے اور کسی چیلنج سے نمٹنے کی دفاعی تیاریوں کے لئے فوجیوں کی تعریف کی’۔ اس میں کہا گیا، ’سی ڈی ایس نے کہا کہ وہ سبھی سطح کے اہلکاروں کے بلند حوصلے اور جوش وجذبے سے مطمئن ہیں، جو موقع دیئے جانے پر یا چیلنج ملنے پر یقینی طور پر جیت کو یقینی بنائیں گے’۔ فوج کے مطابق، اتوار کی صبح ریاست میں پہنچنے کے بعد سے ہی سی ڈی ایس نے دبانگ وادی، لوہت سیکٹر اور سبنسری وادی میں کئی اہم علاقوں کا دورہ کیا۔


جوانوں کے ساتھ کی بات چیت


بیان میں بتایا گیا کہ جنرل بپن راوت نے اتوار کو سبنسری وادی کے علاقوں میں تعینات فوج اور ہندوستان - تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں کے ساتھ بات چیت کی۔ ذرائع نے کہا کہ جنرل بپن راوت نے پیشگی ٹھکانوں پر مسلح اہلکاروں کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور ان سے محتاط (چوکنا) رہنے کو کہا۔ سی ڈی ایس نے ہفتہ کو پیشگی علاقوں میں کچھ علاقوں کا ہوائی معائنہ کیا اور دیگر ایئر بیس کا بھی دورہ کیا۔

ایل اے سی پر فوج نے رکھی ہیں اعلیٰ سطح کی تیاریاں

مشرقی لداخ میں تعطل کے پیش نظر چین کے ساتھ تقریباً 3,500 کلو میٹر لمبی حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر فوج اور فضائیہ اعلیٰ سطح کی تیاریاں رکھ رہی ہیں۔ مشرقی لداخ میں مختلف پہاڑی علاقوں میں ہندوستانی فوج کے تقریباً 50,000 فوجی تعینات ہیں۔ مئی میں شروع ہوئے تعطل کے حل کے لئے دونوں فریق کے درمیان دیگر دور کی بات چیت کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 03, 2021 11:59 PM IST