உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان مسلمانوں نے ہنومان بھکتوں کو کھلایا بھنڈارا

    ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان مسلمانوں نے ہنومان بھکتوں کو کھلایا بھنڈارا

    ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان مسلمانوں نے ہنومان بھکتوں کو کھلایا بھنڈارا

    ملک میں سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ اپنے مقاد کے لئے نفرت کو اس قدر عام قدر کردیا گیا ہے کہ اب لوگوں کو محبت کی باتوں پر آسانی سے یقین ہی نہیں ہوتا ہے، لیکن جب محبت کے دیوانے نفرت کے چراغوں کو بجھا کر محبت کی شمع کو روشن کرتے ہیں تو نفرت کی تیرگی کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: ملک میں سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ اپنے مقاد کے لئے نفرت کو اس قدر عام قدر کردیا گیا ہے کہ اب لوگوں کو محبت کی باتوں پر آسانی سے یقین ہی نہیں ہوتا ہے، لیکن جب محبت کے دیوانے نفرت کے چراغوں کو بجھا کر محبت کی شمع کو روشن کرتے ہیں تو نفرت کی تیرگی کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا ہے۔ تہذیبوں کی نگر بھوپال میں ہنومان جینتی کے موقع پر جب روزہ دار مسلمانوں نے ہنومان بھکتوں کو بھنڈارا کھلایا تو دیکھنے والے عش عش کر اٹھے اور ہر دیکھنے والا یہی کہتا نظر آیا کہ یہی ہے ہندوستان کی اصل روح کی میرا کے آنسو میر کی آنکھوں سے نکلیں۔
    سماجی کارکن عظیم بیگ کہتے ہیں کہ ہمارا روزہ ہے، لیکن ہمارے پڑوسی بھائی کے یہاں ہنومان جی کی جشن ہے اور ایسی خوشی کے موقع پر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم انہیں اپنے ہاتھوں سے کھانہ نہ کھلائیں۔ ہمارے مذہب نے اور ہمارے بزرگوں نے ہمیں بس ایک ہی سبق سکھایا ہے اور وہ محبت کا۔ ہم اس ہنومان جینتی کے جشن کا سال بھر انتظار کرتے ہیں اور جشن ختم ہوتا ہے، اگلے برس کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں ہمیں کوئی بلاتا نہیں ہے بلکہ ہم خود آتے ہیں کیونکہ یہ ہماری ہندستانی تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے۔
    وہیں مقامی باشندہ شاداب خان کہتے ہیں کہ میں تو ہنومان جینتی کے اس پروگرام میں کئی سالوں سے شرکت کرتا ہوں۔بیچ کے دو سال کورونا قہر کے سبب یہ خوشی کی تقریب منعقد نہیں ہوسکی تھی اور بار جب حالات سازگار ہوئے تو ہم لوگوں نے اسی روایتی انداز میں تیاری شروع کردی۔ ہم نے روزہ افطار کی اور نماز ادا کرنے کے بعد بھنڈارا میں آگئے تاکہ ہنومان جی کے بھکتوں کو اپنے ہاتھوں سے کھانہ کھلا سکیں۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہنومان جی کے بھکتوں کو ہمارا انتظار رہتا ہے۔ آج صبح سے ہی لوگوں کے جب فون آنے لگے تو ہم نے بھی اپنا سارا کام چھوڑ کر ہنومان جی کے بھکتوں کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔
    سماجی کارکن پریم گرو کہتے ہیں کہ یہاں آکر انسانیت کا بندھن اور مضبوط ہوتا ہے اور جو لوگ نفرت کی بات کرتے ہیں، انہیں آکر بھوپال سے سبق لینا چاہئے کہ اپنے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے دوسرے کی خوشیوں پر کیسے قربان ہوتے ہیں۔
    بھوپال جواہر چوک پر واقع ہنومان مندر کے چیف ٹرسٹی پنڈت وجے تیواری کہتے ہیں کہ یہ تو سیاست نے دیوار اٹھا رکھی ہے، ورنہ ہمارے بیچ کسی قسم کی دوری نہیں ہے اور جب ہم لوگ محبت کا یہ پیغام دیتے ہیں، تو یقین جانئے نفرت کرنے والوں کے منصوبوں پر ایسی ضرب لگتی ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    سماجی کارکن دنیش کورو کہتے ہیں کہ بھوپال نہ صرف ہندوستان کا دل ہے بلکہ مشترکہ تہذیب کا بھی گہوارا ہے۔ ہمارے مسلمان بھائی ہنومان بھکتوں کو بھوجن کراتے ہیں اور جب عید آتی ہے، تو ہم لوگ ان کے گھروں پر جاتے ہیں اور سوئیوں کا مزہ لیتے ہیں۔ بس خدا سے یہی دعا ہے کہ ہماری محبت کو کسی کی نظر نہ لگے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: