உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amit Shah Interview: وزیر داخلہ امت شاہ نے ایکسکلوزیو انٹرویو کی کہیں یہ اہم باتیں

    یوپی اسمبلی انتخابات میں ہندو مسلم موضوع، شہریت ترمیمی قانون، ووٹوں کا پولرائزیشن، 80 بنام 20، مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دینے، حجاب تنازعہ اور جموں وکشمیر میں پتھر بازی جیسے تمام باتوں کو لے کر انہوں نے پارٹی کا موقف واضح کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے Network18 کے ایم ڈی اور گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی (Rahul Joshi) کے ساتھ خصوصی بات چیت میں تمام سوالوں کے بیباکی سے جواب دیئے۔

    یوپی اسمبلی انتخابات میں ہندو مسلم موضوع، شہریت ترمیمی قانون، ووٹوں کا پولرائزیشن، 80 بنام 20، مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دینے، حجاب تنازعہ اور جموں وکشمیر میں پتھر بازی جیسے تمام باتوں کو لے کر انہوں نے پارٹی کا موقف واضح کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے Network18 کے ایم ڈی اور گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی (Rahul Joshi) کے ساتھ خصوصی بات چیت میں تمام سوالوں کے بیباکی سے جواب دیئے۔

    یوپی اسمبلی انتخابات میں ہندو مسلم موضوع، شہریت ترمیمی قانون، ووٹوں کا پولرائزیشن، 80 بنام 20، مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دینے، حجاب تنازعہ اور جموں وکشمیر میں پتھر بازی جیسے تمام باتوں کو لے کر انہوں نے پارٹی کا موقف واضح کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے Network18 کے ایم ڈی اور گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی (Rahul Joshi) کے ساتھ خصوصی بات چیت میں تمام سوالوں کے بیباکی سے جواب دیئے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: یوپی اسمبلی انتخابات میں ہندو مسلم موضوع، شہریت ترمیمی قانون، ووٹوں کا پولرائزیشن، 80 بنام 20، مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دینے، حجاب تنازعہ اور جموں وکشمیر میں پتھر بازی جیسے تمام باتوں کو لے کر انہوں نے پارٹی کا موقف واضح کیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے Network18 کے ایم ڈی اور گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی (Rahul Joshi) کے ساتھ خصوصی بات چیت میں تمام سوالوں کے بیباکی سے جواب دیئے۔ وزیر داخلہ امت شاہ سے ہوئی بات چیت کے دس اہم نکات یہاں دیکھیں۔

      ڈریس کوڈ پر سبھی لوگ عمل کریں

      کرناٹک میں حجاب تنازعہ اور یونیفارم سول کوڈ تنازعہ پر مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسکول کے ڈریس کوڈ کو سبھی مذاہب کے لوگ مانیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ عدالت جو فیصلہ دے، اسے ماننا چاہئے۔


      امت شاہ نے کیا یوپی میں مکمل اکثریت کا دعویٰ
      وزیر داخلہ امت شاہ نے یوپی الیکشن میں بی جے پی کی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ دوبارہ مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئیں گے۔ عوام پھر سے یوگی آدتیہ ناتھ کو آشیرواد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس بار بھی 300 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو 2017 کے الیکشن میں ہمیں الیکشن سے قبل سروے میں 230 کے آس پاس سیٹیں دی جارہی تھیں، لیکن بی جے پی نے 300 کا اعدادوشمار پار کرلیا، اس لئے ہمیں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم اس بار بھی 300 سے زیادہ سیٹیں جیتیں گے۔

      اسدالدین اویسی سے متعلق کہی یہ بات





      آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے یوپی میں اثر کے بارے میں وزیر داخلہ امت شاہ نےکہا کہ اسدالدین اویسی پورے ملک میں دورہ کرتے ہیں اور بیشتر مسلمانوں کو خطاب کرتے ہیں۔ ہر بار الیکشن میں AIMIM کو ووٹ بھی ملتا ہے۔ ایسے میں کسی ایک حادثہ کو لا اینڈ آرڈر سے نہیں جوڑنا چاہئے اور یہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ تب ہوتا، جب ہم کارروائی نہیں کرتے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دو گھنٹے میں دونوں ملزمین کو پکڑ کر ہم نے قانون کا حوالہ کردیا۔ امت شاہ نے کہا کہ ہم نے اسدالدین اویسی کو سیکورٹی دینے کا فیصلہ کیا۔ سیکورٹی ہر ایک شخص کو ملنا چاہئے اور مسلمانوں میں اسدالدین اویسی کی مقبولیت تو ہے ہی۔



      کشمیر میں دیکھنے کو مل رہی ہے بڑی تبدیلی

      مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ڈھائی سال پہلے کشمیر سے تشدد اور کشیدگی کی خبریں آتی تھیں، لیکن اب کشمیر میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کشمیر کا نوجوان اب ترقی کی بات کر رہا ہے اور کشمیر سے پتھراو اب ختم ہوچکا ہے۔


      مسلمانوں کے ووٹ بینک سے متعلق کیا یہ دعویٰ 

      مسلمانوں کے ساتھ وہی رشتہ ہے، جو حکومت کا ہونا چاہئے۔ الیکشن میں کون ووٹ دیتا ہے، وہ بھی تو دیکھنا پڑتا ہے۔ ووٹ بینک کے لحاظ سے ہم نہیں دیکھتے ہیں۔ جن کا حق، ان کے ساتھ حکومت پر ہم چلتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہر منصوبہ کا لوگوں کو فائدہ مل رہا ہے۔ پہلے دو کروڑ 62 لاکھ گھروں میں بیت الخلا نہیں تھا۔ ہم نے یوپی میں ایک کروڑ 41 لاکھ گھروں میں بجلی پہنچائی ہے۔ اس کے علاوہ دو کروڑ 68 لاکھ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے۔ 15 کروڑ غریبوں کو دو سال سے مفت راشن دی، 42 لاکھ لوگوں کو رہائش گاہ (آواس) دینے کا کام ہوا۔ اب 2024 تک ہر آدمی کو گھر دینے کا ہدف ہے۔

      بی جے پی حکومت میں سبھی کو ہوا فائدہ
      وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں بی جے پی حکومت کی مدت کے دوران سبھی مذاہب اور ذات پات کے لئے ترقی کے منصوبوں پرکام ہوا۔ انہوں نے مرکز اور ریاست کے منصوبوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے کسانوں، نوجوانوں، خواتین سبھی طبقات کے لئے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ ہندو - مسلمان کی تقسیم ہے۔ پولرائزیشن ضرور ہو رہا ہے۔ غریب، کسان بھی پولرائز ہو رہا ہے۔ بی جے پی کے دور اقتدار میں کسانوں کو کسان کلیان ندھی کا پیسہ مل رہا ہے۔

      پانچ ریاستوں میں بی جے پی کو ہوگا فائدہ

      وزیر داخلہ امت شاہ نے یوپی کے ساتھ ساتھ ملک کے چار دیگر ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی اچھی کارکردگی کی وجہ بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں بی جے پی تین سو سے زیادہ سیٹیں جیت کر اقتدار میں واپسی کرے گی۔ ساتھ ہی دوسری چار ریاستوں میں بھی بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ آپ کو بتادیں کہ یوپی کے علاوہ اتراکھنڈ، گوا، پنجاب اور منی پور میں بھی اسمبلی انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔

      کسان آندولن سے متعلق کیا یہ دعویٰ

      وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کسان آندولن کی وجہ سے کسانوں میں غصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ذریعہ کسانوں کے درمیان پرسپشن بنانے کی کوشش ہوئی، لیکن کسان بی جے پی کے ساتھ ہے۔ یوپی الیکشن میں کسان آندولن کا اثر نہیں ہوگا اور بی جے پی مکمل اکثریت سے اقتدار میں واپسی کرے گی۔

      جینت چودھری سے متعلق کیا یہ دعویٰ

      امت شاہ نے جینت چودھری کے لئے بی جے پی میں شامل ہونے کے راستے کھلے ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ جینت چودھری غلط جگہ چلے گئے ہیں۔ بی جے پی مکمل اکثریت کی حکومت بنانے جارہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کو جینت چودھری کے ساتھ پوسٹ پول الائنس کی ضرورت نہیں ہے۔

      دہشت گردی سے متعلق ایس پی-بی ایس پی کا رویہ نرم

      وزیر داخلہ امت شاہ نے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی حکومت کے اوپر دہشت گردوں پر کارروائی میں نرمی دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی-بی ایس پی کے وقت 11 معاملوں میں نرمی دی گئی۔ جن 11 معاملوں میں یواے پی اے لگا تھا، ان کی حکومت نے وہ واپس لے لئے۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو یہ بتانا ہوگا کہ دہشت گردوں پر سے پوٹا اور یواے پی اے ہٹا کر وہ کس کی مدد کر رہے تھے؟ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کے معاملے ذات پات پر مبنی پارٹیوں کا رویہ لچیلا ہے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: