உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بجلی بحران کا حل نکالنے پر غور،Amit Shah نے کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، بجلی کی مانگ پر نظر رکھنے کا دیا حکم

    بجلی بحران پر امیت شاہ نے کی ہائی لیول میٹنگ۔

    بجلی بحران پر امیت شاہ نے کی ہائی لیول میٹنگ۔

    Power Crisis: کول انڈیا کے علاوہ کچھ اور کمپنیوں نے پاور پلانٹس میں کوئلہ بھیجا ہے۔ ان پلانٹس کے پاس پہلے ہی کوئلے کا کچھ ذخیرہ موجود ہے۔ ملک میں تقریباً تمام تھرمل پاور اسٹیشنوں کو روزانہ 2.2 ملین ٹن کوئلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: حکومت تقریباً چھ سات ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر ملک کو درپیش بجلی کے بحران سے پریشان ہے۔ لیکن اب اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ذہن سازی شروع ہو گئی ہے۔ پیر کو وزیر داخلہ امت شاہ نے بجلی بحران کے مستقل حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ اس میں بجلی کے وزیر آر کے سنگھ، ریلوے کے وزیر اشونی وشنو اور کوئلہ کے وزیر پرہلاد جوشی کے علاوہ کچھ دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ اجلاس میں وزارت بجلی میں گیس اور کوئلے کی قلت کے باعث پھنسے پاور پلانٹس کو شروع کرنے کے لئے ازسر نو غور ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سیاسی قیادت کی ہدایت ہے کہ ملک کی صنعتی ترقی کی راہ میں پاور سیکٹر سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Odisha: اوڈیشہ میں ریکارڈ گرمی، اسکولوں میں پڑھانےکاوقت صبح 6 تا 9 بجے تک مختص، جانیےتفصیل

      وزارت بجلی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اپریل 2022 میں بجلی کی کھپت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ملک نے رواں ماہ 132.98 بلین یونٹ بجلی استعمال کی ہے جو کہ اپریل 2021 کے مقابلے میں 13.6 فیصد زیادہ ہے۔ اپریل 2020 میں صرف 85.44 بلین یونٹ بجلی استعمال کی گئی۔ تاہم اس وقت کورونا کی وجہ سے انڈسٹریل ایریا میں بندش تھی۔ اسی طرح کول انڈیا کی طرف سے بتایا گیا کہ بجلی کی کھپت میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے اس نے کوئلے کی سپلائی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں تھرمل پاور پلانٹ کو 497 ملین ٹن کوئلہ دیا گیا ہے جو کہ اپریل 2021 کے مقابلے میں 14.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ کسی ایک مہینے میں کول انڈیا کی سب سے زیادہ پیداوار ہے۔ اس ماہ اوسطاً، کول انڈیا نے پاور سیکٹر کو روزانہ 16.6 لاکھ ٹن کوئلہ فراہم کیا، جب کہ مہینے کے آخری دنوں میں سپلائی کو بڑھا کر 1.73 لاکھ ٹن کر دیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Take Care in Summer: ہندوستان میں گرمی کی شدت عروج پر، وزارت صحت نے کی ایڈوائزری جاری

      کول انڈیا کے علاوہ کچھ اور کمپنیوں نے پاور پلانٹس میں کوئلہ بھیجا ہے۔ ان پلانٹس کے پاس پہلے ہی کوئلے کا کچھ ذخیرہ موجود ہے۔ ملک میں تقریباً تمام تھرمل پاور اسٹیشنوں کو روزانہ 2.2 ملین ٹن کوئلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: