உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناگالینڈ سےAFSPA ہٹانے کے لئے بنے گی کمیٹی، 45 دنوں کے اندر سونپے گی رپورٹ، امیت شاہ نے ریاستی حکومت کے ساتھ کی میٹنگ

    ناگالینڈ حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میٹنگ میں اس بات پر بھی بات چیت کی گئی کہ اوٹنگ کے واقعہ میں شامل آرمی یونٹ اور فوج کے جوانوں کے خلاف کورٹ آف انکوائری اور ضابطے کی کارروائی شروع کرے گی اور جلد ایکشن لیا جائے گا۔

    ناگالینڈ حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میٹنگ میں اس بات پر بھی بات چیت کی گئی کہ اوٹنگ کے واقعہ میں شامل آرمی یونٹ اور فوج کے جوانوں کے خلاف کورٹ آف انکوائری اور ضابطے کی کارروائی شروع کرے گی اور جلد ایکشن لیا جائے گا۔

    ناگالینڈ حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میٹنگ میں اس بات پر بھی بات چیت کی گئی کہ اوٹنگ کے واقعہ میں شامل آرمی یونٹ اور فوج کے جوانوں کے خلاف کورٹ آف انکوائری اور ضابطے کی کارروائی شروع کرے گی اور جلد ایکشن لیا جائے گا۔

    • Share this:
      کوہیما:ناگالینڈ سے آرمڈ فورسس اسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) ہٹانے کو لے کر مرکزی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دینے جارہی ہے۔ ناگالینڈ حکومت نے بتایا ہے کہ یہ کمیٹی 45 دنوں میں اپنی رپورٹ سونپے گی اور اس کی سفارشوں کی بنیاد پر ’غیر مطمئن‘ علاقوں کی فہرست سے باہر کرنے اور ناگالینڈ سے افسپا ہٹانے کو لے کر فیصلہ لیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے بتایا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 23 دسمبر کو ناگالینڈ کی موجودہ صورتحال کو لے کر ایک میٹنگ کی تھی۔

      یہ میٹنگ اسی مہینے کی شروعات میں ریاست کے مون ضلع کے اوٹنگ میں سیکورٹی فورس کی فائرنگ میں 14 عام شہریوں کی موت کے بعد ہوئی ہے۔ ناگالینڈ حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میٹنگ میں اس بات پر بھی بات چیت کی گئی کہ اوٹنگ کے واقعہ میں شامل آرمی یونٹ اور فوج کے جوانوں کے خلاف کورٹ آف انکوائری اور ضابطے کی کارروائی شروع کرے گی اور جلد ایکشن لیا جائے گا۔ جانچ کا سامنا کرنے والے شخص کو فوری اثر سے معطل کیا جائے گا۔

      کمیٹی کی صدارت مرکزی وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سکریٹری (نارتھ ایسٹ) کی جانب سے کی جائے گی۔ اس کے علاوہ رکن کے طور پر ناگالینڈ کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی، IGARR(N)اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت واقعہ میں مارے گئے لوگوں کے افراد خاندان کو سرکاری نوکری دے گی۔

      ناگالینڈ اسمبلی میں AFSPA کے خلاف تجویز پاس
      اس میٹنگ میں ناگالینڈ کے وزیراعلیٰ نیفیو ریو، نائب وزیر اعلیٰ وائی پیٹن، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما، اور NPFLP کے لیڈر ٹی آر جے لیانگ شامل تھے۔ ریاستی حکومت نے سبھی طبقے کے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ 4-5 دسمبر کو فوج کے جوانوں کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے تین واقعات میں مارے گئے 14 لوگوں میں سے 13 لوگ ناگالینڈ کی اہم برادری میں سے ایک کونیاک برادری کے تھے۔ اس واقعے کے بعد ناگالینڈ کے وزیراعلیٰ سمیت کئی تنظیموں نے ریاست سے افسپا ہٹانے کی مانگ کی تھی۔

      افسپا فوج کو پریشان کن علاقے یا ’غیر مطمئن علاقوں‘ میں کسی کی بنا وارنٹ گرفتاری اور نظربندی، بنا کسی اجازت کے گولی چلانے جیسا پاور دیتا ہے۔ 20 دسمبر کو ناگالینڈ اسمبلی نے ہندوستانی حکومت سے اس علاقے میں افسپا ہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک تجویز پاس کی تھی۔ تجویز کو پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ریو نے کہا تھا کہ پچھلے 20 سالوں سے ریاستی حکومت اس علاقے سے متنازع قانون کو ہٹانے اور ناگالینڈ کو پریشان کن علاقوں کی فہرست سے ہٹاے کی مانگ کررہی ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: