ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جموں و کشمیر تنظیم نو ( ترمیمی ) بل 2021 لوک سبھا میں پاس ، امت شاہ نے کہا : مناسب وقت پر ملے گا مکمل ریاست کا درجہ

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اس بل میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ اس سے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں ملے گا ۔ شاہ نے کہا کہ میں پھر سے کہتا ہوں کہ اس بل کا جموں و کشمیر کے مکمل ریاست کے درجہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو ریاست کا درج دیا جائے گا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر تنظیم نو ( ترمیمی ) بل 2021 لوک سبھا میں پاس ، امت شاہ نے کہا : مناسب وقت پر ملے گا مکمل ریاست کا درجہ
جموں و کشمیر تنظیم نو ( ترمیمی ) بل 2021 لوک سبھا میں پاس ، امت شاہ نے کہا : مناسب وقت پر ملے گا مکمل ریاست کا درجہ

بجٹ سیشن کے دوران لوک سبھا میں جموں و کشمیر تشکیل نو ( ترمیمی ) بل 2021 پاس ہوگیا ہے ۔ بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اس بل میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ اس سے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں ملے گا ۔ شاہ نے کہا کہ میں پھر سے کہتا ہوں کہ اس بل کا جموں و کشمیر کے مکمل ریاست کے درجہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو ریاست کا درج دیا جائے گا ۔


امت شاہ نے کہا کہ کئی ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو بل 2021 لانے کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا ، میں بل کی قیادت کررہا ہوں ، میں اس کو لے کر آیا ہوں ، میں نے اپنے ارادے واضح کردئے ہیں کہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا ۔ آپ کہاں سے نتیجہ نکال رہے ہیں؟




مرکزی وزیر داخلہ نے اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اویسی کے تبصرہ پر کہا کہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام خطہ میں ٹوجی سے فورجی انٹرنیٹ خدمات غیرملکیوں کے دباو میں بحال کی گئی ہیں ۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ یہ یو پی اے سرکار نہیں ، جس کی وہ حمایت کرتے تھے ، یہ نریندر مودی کی سرکار ، ملک کی پارلیمنٹ ، ملک کیلئے فیصلے کرتی ہے ۔

ایوان میں امت شاہ نے دعوی کیا کہ اویسی صاحت افسران کی بھی ہندو مسلم میں تقسیم کرتے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایک مسلم افسر ہندو عوام کی خدمت نہیں کرسکتا یا ہندو افسر مسلم عوام کی خدمت نہیں کرسکتا؟ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسروں کو ہندو اور مسلم میں تقسیم کرتے ہیں اور خود کو سیکولر کہتے ہیں ۔

لوک سبھا میں امت شاہ نے کہا کہ یہاں کہا گیا کہ آرٹیکل 370 ہٹانے کے وقت جو وعدے کئے گئے تھے ، اس کا کیا ہوا ؟ میں اس کا جواب ضرور دوں گا ۔ مگر ابھی تو 370 کو ہٹے ہوئے صرف سترہ مہینے ہوئے ہیں ۔ آپ نے 70 سال کیا کیا ، اس کا حساب لے کر آئے ہو کیا ؟ اگر آپ نے ٹھیک سے کام کیا ہوتا تو آپ کو ہم سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

امت شاہ نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں طویل بحث کے بعد پانچ ججوں کی بینچ کے سپرد کیا گیا ہے ۔ اگر اس معاملہ میں اتنی غیرآئینی چیزیں ہوتیں تو عدالت عظمی کو قانون پر روک لگانے کا پورا اختیار تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 13, 2021 04:05 PM IST