وزیرداخلہ امت شاہ نےکہا- پورے ملک میں نافذ ہوگا این آر سی، وکیل بھی کرائیں گےدستیاب

امت شاہ نے ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں یہ اطلاع دیتے ہوئےکہا کہ لوگوں میں این آرسی اورشہریت قانون میں ترمیم کےسلسلے میں تذبذب ہےجبکہ دونوں الگ الگ ہیں۔

Nov 20, 2019 06:11 PM IST | Updated on: Nov 20, 2019 06:42 PM IST
وزیرداخلہ امت شاہ نےکہا- پورے ملک میں نافذ ہوگا این آر سی، وکیل بھی کرائیں گےدستیاب

راجیہ سبھا میں وزیرداخلہ امت شاہ۔

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نےآج راجیہ سبھا میں کہا کہ غیر قانونی لوگوں کی شناخت کے لئے پورے ملک میں قومی شہری رجسٹر(این آرسی) نافذ ہوگی اوراس میں تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگوں کو شامل کیا جائےگا۔ امت شاہ نے ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نےکہا کہ لوگوں میں این آرسی اورشہریت قانون میں ترمیم کے سلسلے میں تذبذب ہے جب کہ دونوں الگ الگ ہیں۔ انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پرآسام میں این سی آرنافذ کیا جارہا ہےاوریہ دراندازوں کی شناخت کرنےکے لئے ہے۔

وزیرداخلہ امت شاہ نےکہا کہ جب پورے ملک میں این آرسی نافذ ہوگا توآسام میں بھی یہ عمل دوبارہ ہوگا۔ انہوں نےکہا کہ آسام میں این آرسی سے باہررہ گئے لوگوں کی پوری مدد کی جائےگی اوران کےلئے ریاست کی ہرتحصیل میں ایک پیلیٹ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں کو آسام حکومت قانونی امداد فراہم کرائےگی۔ انہوں نےکہا کہ شہریت قانون کی مجوزہ ترمیم میں پاکستان‘ بنگلہ دیش اورافغانستان سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین اورپارسی مذہب کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا التزام ہے۔

غیرمسلم پناہ گزینوں کو ملےگی شہریت

امت شاہ نے راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران این آرسی میں 6 غیرمسلم مذاہب کے پناہ گزینوں کوشہریت فراہم کرنے سے منسلک ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان، افغانستان اوربنگلہ دیش میں تشدد کے شکارہوکرہندوستان آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اورعیسائی مذہب کے پناہ گزینوں کوشہریت دی جائے۔ اس کے لئے حکومت شہری قانون میں ترمیم کرے گی۔  انہوں نے واضح طورپرکہا کہ گزشتہ لوک سبھا سے منظورکئے جاچکے شہری ترمیمی بل کوآسام کے لئے بنائے گئے این آرسی قانون سے خوفزدہ نہ کیا جائے۔

این آرسی میں سبھی مذاہب کے لوگ شامل

امت شاہ نے کہا کہ این آرسی میں مذہبی بنیاد پرشہریوں کی شناخت کا کوئی التزام نہیں ہے۔ اس میں سبھی مذاہب کے لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں منظورشہریت ترمیمی بل میں سبھی سیاسی جماعتوں کی اتفاق رائے سے پناہ گزینوں کو مذہبی بنیاد پرشہریت دینے کا التزام شامل کیا گیا تھا۔ قابل ذکرہے کہ 16 ویں لوک سبھا تحلیل ہونے کے سبب اس سے متعلقہ بل غیرمؤثرہوگیا تھا۔

Loading...