مہاراشٹربحران پرامت شاہ کا ٹھاکرے کوجواب، وزیراعظم مودی اورمیں نے پہلے ہی کہا تھا کہ فڑنویس ہی وزیراعلیٰ ہوں گے

شیوسینا کے ساتھ دوستی ٹوٹنے پروزیرداخلہ نےکہا 'ہمیں شیوسینا کی نئی شرائط منظورنہیں تھیں۔ جہاں تک وزیراعلیٰ عہدہ کا سوال ہے تووزیراعظم مودی اورمیں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگرہم جیتے تودیویندرفڑنویس ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔

Nov 13, 2019 08:57 PM IST | Updated on: Nov 13, 2019 08:57 PM IST
مہاراشٹربحران پرامت شاہ کا ٹھاکرے کوجواب، وزیراعظم مودی اورمیں نے پہلے ہی کہا تھا کہ فڑنویس ہی وزیراعلیٰ ہوں گے

بی جے پی کے قومی صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلی بار شیو سینا سے دوستی ختم ہونے پربیان دیا ہے۔

نئی دہلی: مہاراشٹرکے سیاسی بحران پرپہلی باروزیرداخلہ اوربی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نےاپنا بیان دیا ہے۔ انہوں نےاس معاملے میں گورنرکے رول کا بچاؤ بھی کیا ہے۔ شیوسینا کے ساتھ مچے سیاسی گھمسان اوراس کے بعد دوستی ٹوٹنے پرانہوں نے کہا 'ہمیں شیوسینا کی نئی شرائط منظورنہیں تھیں۔ جہاں تک وزیراعلیٰ عہدہ کا سوال ہے تووزیراعظم نریندرمودی اورمیں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگرہم جیتے تودیویندرفڑنویس ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔

گورنربی ایس کوشیاری کےکردارپرانہوں نےکہا 'حکومت بنانےکےلئے سبھی کوپورا وقت ملا۔ حکومت بنانے کےلئے 18 دن کا وقت تھا۔ اس کے بعد ہی صدرراج کی سفارش کی گئی۔ حکومت بنانے کے لئےاتنا وقت کسی ریاست کونہیں ملا'۔ انہوں نے کہا کہ 'گورنرنے اسمبلی کی مدت کارختم ہونے کے بعد ہی سبھی پارٹیوں کوبلایا۔ اس کے بعد نہ شیوسینا، نہ این سی پی اورنہ ہی ہم اکثریت ثابت کرسکے۔ آج بھی جس کے پاس اعدادوشمار(نمبر) ہوں۔ وہی حکومت بنائے۔

ادھو ٹھاکرے کے بیان پردیا جواب

امت شاہ نےادھوٹھاکرے کے الزام پربھی جواب دیا۔ انہوں نےکہا 'ہم تو شیوسینا کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے تیارتھے۔ انتخابی تشہیرکے دوران وزیراعظم مودی اورمیں نے کئی بارکہا تھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد دیویندرفڑنویس ہی ریاست کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ اگر اس پراعتراض تھا، تواسی وقت کہنا چاہئےتھا۔ اب وہ نئی شرطوں کے ساتھ آگئے، جوکہ نہیں مانی جاسکتی'۔  

نئی حکومت پراپوزیشن کو جواب

وزیرداخلہ نےکہا کہ آج بھی اگرکسی کے پاس نمبرہیں تووہ جاکرحکومت بنا سکتا ہے۔ گورنر کسی کوبھی موقع دینے سےانکارنہیں کررہے ہیں۔ کپل سبل جیسے سینئروکیل بچوں کی طرح بات کررہے ہیں۔ ہمیں حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا۔ وہ توایک یا دودن مانگ رہے تھے، اب انہیں پورے 6 ماہ مل گئے ہیں۔ گورنرکے ذریعہ صدرراج نافذ کرنے کے موضوع پرامت شاہ نےکہا کہ اس موضوع پراپوزیشن صرف سیاست کررہا ہے۔ ایک آئینی عہدے کو اس طرح سے سیاست میں گھسیٹنا، میں نہیں مانتا کہ یہ ایک مضبوط جمہوریت کی نشانی ہے۔

Loading...