ہوم » نیوز » وطن نامہ

شہریت ترمیمی بل : لوک سبھا میں پیش، بحث وتکرارجاری

ملک میں احتجاج ومظاہرہ کےدوران آج لوک سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ شہریت ترمیمی بل پیش کردیاہے۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی بل :  لوک سبھا میں پیش، بحث وتکرارجاری
شہریت ترمیمی بل : آج لوک سبھا میں پیش ہوسکتاہےبل، سخت نوک جھونک کے آثار

ملک میں 60 سال پرانے شہریت قانون کو بدلنےکےلیےمرکزی حکومت نےکمرکس لی ہے۔ملک میں احتجاج ومظاہرہ کےدوران آج لوک سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ شہریت ترمیمی بل پیش کردیاہے۔ بی جے پی نے اپنے ارکان پارلیمان کو تین دنوں کےلیےوہپ جاری کیاہے۔اگریہ بل قانون بن جاتا ہے تو پاکستان، افغانستان اوربنگلہ دیش سے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی، اورعیسائی کوملک میں شہریت مل سکےگی۔آپ کوبتادیں اس بل سےمسلمانوں کودوررکھاگیا ہے۔وہیں ٹی آرایس، بی ایس پی نے بھی اس بل کی مخالفت کرنے کا اعلان کیاہے۔

جمعہ کو خواتین کے خلاف آبروریزی کے مسئلہ پر آمنے سامنے آئے اپوزیشن اور برسر اقتدار کے درمیان آج بھی لوک سبھا میں سخت نوک جھونک کے امکانات ہیں کیوں کہ حکومت نے ’شہریت ترمیمی بل۔2019‘کو لوک سبھا میں پیش کردیاہے۔ اصل اپوزیشن پارٹی کانگریس، ترنمول کانگریس کے ساتھ ساتھ آسام میں آل آسام اسٹوڈنٹ یونین اور شمال مشرقی ریاستوں کی مختلف پارٹیاں اور سماجی تنظیمیں بھی بل کی زبردست مخالفت کررہی ہیں۔ سال 1985 میں ہوئے آسام معاہدے میں غیرقانونی طور سے رہنے والے غیرملکیوں کی شناخت کے لئے 24 مارچ 1971 کی تاریخ طے کی گئی تھی۔

آسام میں بھی شہریت ترمیمی بل کو لیکر ہورہی ہے مخالفت

۔ آسام کی مختلف تنظیمیں اور مقامی پارٹیاں شہریت ترمیمی بل کے حق میں نہیں۔ نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے بل کے خلاف 10 دسمبر کو 11 گھنٹے کیلئے بند کی کال دی ہے۔ شہریت ترمیمی بل کو لیکر ملک کی مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ہورے ہیں۔ وہیں دہلی کے جنتر منتر پر آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آج احتجاجی مظاہرہ کریگا۔ شہریت ترمیمی بل کیا ہے؟ سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں ترمیم کی کوشش افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان کےغیرمسلموں کوشہریت دینا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کو ہندوستان کی شہریت دینا مقصد ہندو ، سکھ ، بدھ ، جین ، پارسی، اور عیسائی کوہی شہریت ترمیمی بل سےہوگا فائدہ شہریت ترمیمی بل سےمسلمانوں کورکھاگیا ہےدور شہریت ایکٹ 1955 کیاہے؟ جوہندوستان میں پیداہوا وہ ملک کاشہری ہے ہندوستانی والدین ہیں توبچے بھی ہندوستانی ہوئے ایک مخصوص مدت میں ہندوستان میں مقیم ہے وہ بھی ملک کا شہری ہے غیر قانونی تارکین وطن ہندوستان کے شہری نہیں ہوسکتے غیرقانونی تارکین وطن کو دفعہ 1946 کے تحت جیل میں ڈالاجاسکتا ہے پاسپورٹ ایکٹ 1920 کے تحت بھی جیل یاملک بدرکیاجا سکتا ہے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل یہ بل 19 جولائی 2016 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا یہ بل 12 اگست 2016 کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا تھا کمیٹی نے 7 جنوری 2019 کو اپنی رپورٹ پیش کی یہ بل 8 جنوری 2019بل کو لوک سبھا میں منظور کیا گیا راجیہ سبھا میں بل پیش نہیں کیاجاسکا بل پرتنازعہ کیا ہے؟ شہریت ترمیمی بل کےمخالفین کی دلیل یہ بل آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے بل کےذریعے ایک خاص فرقہ کونشانہ بنایاجارہاہے
First published: Dec 09, 2019 09:34 AM IST