علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ماحول کشیدہ، 8 طالب علم معطل، شہرمیں انٹر نیٹ خدمات بند

بی جے پی کارکنان نے تھانے میں اے ایم یوطلبا کی گرفتاری کولے کرہنگامہ کیا۔ وہیں اے ایم یوکے طلبا بھی یونیورسٹی کے باب سید پرطلبہ لیڈراجے سنگھ کے خلاف کارروائی کولے کربیٹھ گئے ہیں۔

Feb 13, 2019 03:33 PM IST | Updated on: Feb 13, 2019 09:19 PM IST
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ماحول کشیدہ، 8 طالب علم معطل، شہرمیں انٹر نیٹ خدمات بند

اے ایم یو میں طلبہ یونین اوربی جے پی لیڈروں کے مابین تنازعہ۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) میں ہوئےتنازعہ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے بدھ کو آٹھ طلبا کو معطل کردیا وہیں شہر میں حالات کو کشیدہ ہوتا دیکھ ضلع انتظامیہ نے انٹرنیٹ خدمات کو بند کردیا ہے۔ اے ایم یو انتظامیہ کے بعد اجے سنگھ، امن شرما، منیش کمار، ابھے جادون، اور فرحان زبیری، عادل، عمران، ابوالمعبود سمیت آٹھ طالب علموں کومعطل کرکے ان پر یونیورسٹی احاطے میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ وہیں اے ایم یو کے باب سید پرطلبا غیرمعینہ ہڑتال پرہیں۔ ا

حتجاج کررہے طلبا کا مطالبہ ہے کہ طلبا یونین لیڈر سلمان امتیاز سمیت15 طلبا پر تشدد پھیلانے کے الزام میں درج مقدمے کو ختم کیا جائے۔ اور باہری لوگوں کےایے ایم یو احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔طلبا یونین صدر سلمان امتیاز نے طلبا لیڈر اجے سنگھ، سونویر سنگھ اور امن شرما پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ایے ایم یو کو سیاسی اکھاڑا بنانا چاہتے ہیں۔

ایس ایس پی آکاش کُلہری نے بتایا کہ اس پورے معاملے کو ہوا دینے والے طلبا کے پوسٹر چسپاں کئے جائیں گے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل طلبا کے گھروں پر غیر ضمانتی وارنٹ بھیجے جائیں گے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میڈیا اہلکاروں اورطلبہ لیڈروں کے ساتھ غلط برتاو کرنے کی خبرآرہی ہے۔

Loading...

بتایا جارہا ہے کہ اے ایم یوکے انتظامی عمارت پراسدالدین اویسی کی مجوزہ آمد کی مخالفت کررہے طلبا لیڈراجے سنگھ کو دوسرے طلبہ فریق نے پیٹا ہے۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اے ایم یوسرکل کے پاس سے گزررہے بی جے پی لیڈرمکیش لودھی پربھی فائرنگ کی گئی۔ اس پورے معاملے پرایم یوطلبہ یونین کےعہدیداران کا کہنا ہےکہ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کےغنڈےعلی گڑھ میں فساد کراکرالیکشن میں پولرائزیشن کرانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی لیڈروں پرپستول سے طلبا کی طرف فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بی جے پی ضلع صدر مکیش لودھی کی تحریر پر سول لائن تھانے میں سلمان امتیاز کے علاوہ طلبا یونین کے نائب صدر سفیان، سکریٹری حذیفہ عامر، زید شیروانی، محمد عامر، ناوید عالم، مشکور احمد، عارف ، فرحان زیبر، نجم الثاقب، ذکی، ریحان اور اسد سمیت 15 طلبا کے خلاف دفعہ 147،148،392،307،323،504،124اے،153اے،153 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ منگل کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پالیمان اسد الدین اویسی کے آمد کے سلسلے میں طلبا کے دو گرہ آمنے سامنے آگئے تھے۔ اس دوران جم کر مارپیٹ کے ساتھ فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ مشتعل طلبہ نے دوپہیہ گاڑیوں میں آگ لگا دی تھی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس پورے معاملے کو لے کردو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں پہلا اے ایم یو انتظامیہ کی طرف سے پرائیویٹ چینل کے خلاف بغیراجازت کے کوریج کرنے پرتھانے میں تحریردی گئی ہے۔ دوسرا علی گڑھ طلبہ یونین صدرسلمان امتیاز، سکریٹری حذیفہ عامر، نائب صدرحمزہ سفیان اورسابق طلبہ یونین سکریٹری ندیم انصاری کے خلاف تھانے میں تحریردی گئی ہے۔ ان پرملک مخالف نعرے لگانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

بی جے پی کارکنان نے تھانے میں اے ایم یوطلبا کی گرفتاری کولے کرہنگامہ کیا۔ وہیں اے ایم یوکے طلبا بھی باب سید پرطلبا لیڈر اجے سنگھ کے خلاف کارروائی کولے کربیٹھ گئے ہیں۔ ساتھ ہی طلبہ یونین صدرسلمان امتیازنے طلبہ لیڈراجے سنگھ، سونویرسنگھ اورامن شرما پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اے ایم یوکو سیاست کا اکھاڑہ بنانا چاہتے ہیں۔

Loading...