علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ واپس لیاجائے: طلبا تنظیموں کا مطالبہ

متعدد طلبہ تنظیموں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ یکہجتی کا اظہار کرتے ہوئے آج حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے چودہ طلبا کے خلاف دائر ملک سے غداری کا مقدمہ فوراً واپس لیا جائے۔

Feb 15, 2019 10:10 PM IST | Updated on: Feb 15, 2019 10:10 PM IST
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ واپس لیاجائے: طلبا تنظیموں کا مطالبہ

اے ایم یو: فائل فوٹو

متعدد طلبہ تنظیموں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ یکہجتی کا اظہار کرتے ہوئے آج حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے چودہ طلبا کے خلاف دائر ملک سے غداری کا مقدمہ فوراً واپس لیا جائے۔ طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے آج یہاں پریس کلب آف انڈیا میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوپی پولیس یہ کہہ کر لوگوں کو گمراہ کررہی ہے کہ طلبہ پر عائد ملک سے غداری کا مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے کیوں کہ ان کے خلاف بادی النظر میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کے خلاف اب بھی مقدمہ برقرار ہے ۔ جس سے ان کا تعلیمی کیرےئر متاثر ہوسکتا ہے۔

طلبہ لیڈروں نے کہا کہ ملک سے غداری کا قانون انتہائی سخت قانون ہے اور یہ مقدمہ صرف اسی وقت دائر کیا جاسکتا ہے جب ملک کی خودمختاری اور سالمیت خطرے میں ہو ۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس قانون کا اطلاق کیمپس کے اندر مبینہ دھکا مکی کے واقعہ پر کس طرح کردیا گیا۔ وہ بھی مجرم پر نہیں بلکہ مظلوم پر۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ کہ جن طلبہ پر یہ مقدمہ دائر کیا گیا ہے اس میں سے کئی واقعہ کے روز علی گڑھ سے باہر تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان طلبہ پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔

Loading...

طلبہ لیڈروں نے الزام لگایاکہ اترپردیش پولیس کا رویہ کا انتہائی جانبدارانہ ہے کیو نکہ اصل ملزمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جب کہ بے گناہ طلبہ کو جھوٹے الزام میں پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے علی گڑھ کے حالیہ واقعہ پر میڈیا کے ایک حلقے کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میڈیا کو اشتعال انگیز اور گمراہ کن صحافت سے گریز کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بعض ٹی وی چینل پورے سماج کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر صف بندی کرانے کی کوشش کررہے ہیں جسے روکنے کی ضرورت ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے جنرل سکریٹری سیدا ظہرالدین ، فواض شاہین اور عاصم ادریس شامل تھے۔ اس پریس کانفرنس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے عہدیداروں کو بھی شامل ہوناتھا لیکن انہیں اترپردیش پولیس نے مبینہ طور پر اے ایم یو سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔

Loading...