ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مسلمانوں کو آر ایس ایس کے قریب لانے کی کوشش، بنگلورو میں منعقد ہوا اہم اجلاس

بنگلورو کے معروف اوقافی ادارے حضرت حمید شاہ کامپلیکس کے اردو ہال میں آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں آر ایس ایس کے نظریات، مقاصد اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں آر ایس ایس اور مسلم راشٹریہ منچ کے موقف پر روشنی ڈالی گئی۔

  • Share this:
مسلمانوں کو آر ایس ایس کے قریب لانے کی کوشش، بنگلورو میں منعقد ہوا اہم اجلاس
مسلمانوں کو آر ایس ایس کے قریب لانے کی کوشش، بنگلورو میں منعقد ہوا اہم اجلاس

بنگلورو: نگلورو کے معروف اوقافی ادارے حضرت حمید شاہ کامپلیکس کے اردو ہال میں آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں آر ایس ایس کے نظریات، مقاصد اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں آر ایس ایس اور مسلم راشٹریہ منچ کے موقف پر روشنی ڈالی گئی۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدر مزمل احمد بابو نے کہا کہ مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس کی ایک شاخ ہے۔ اس منچ کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے قریب آئیں۔ آر ایس ایس کے نظریات کو سمجھیں۔ مزمل احمد بابو نے کہا کہ آر ایس ایس ایک سماجی تنظیم ہے، جو دیش بھکتی کیلئے کام کرتی ہے۔ یہ کوئی فرقہ پرست تنظیم نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو اس تنظیم میں شامل کیا جاتا ہے۔


مزمل احمد نے کہا کہ وہ 1992 سے آر ایس ایس کے ایک سرگرم رکن رہے ہیں اور آج بھی آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کبھی فرقہ پرستی کی بات نہیں کرتی، دیش بھکتی کے ساتھ ملک کے سماجی اور فلاحی کاموں میں حصہ لینا اس تنظیم کا اہم مقصد رہا ہے۔ مزمل احمد بابو نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ آر ایس ایس کے قریب آکر دیکھیں، اس تنظیم کو سمجھیں تاکہ اس تنظیم کے متعلق موجود غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔ اس اجلاس میں مسلم Industrialists ایسوسی ایشن کے سابق صدر اے ایس خان نے رسمی طور پر آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ میں شمولیت اختیارکی۔


بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدر مزمل احمد بابو نے کہا کہ مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس کی ایک شاخ ہے۔ اس منچ کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے قریب آئیں۔ آر ایس ایس کے نظریات کو سمجھیں۔
بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدر مزمل احمد بابو نے کہا کہ مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس کی ایک شاخ ہے۔ اس منچ کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے قریب آئیں۔ آر ایس ایس کے نظریات کو سمجھیں۔


منچ کے کرناٹک انچارج ڈاکٹر ماجد تالیکوٹی اور آر ایس ایس کے لیڈر ڈاکٹر جئے پرکاش کی موجودگی میں اے ایس خان مسلم راشٹریہ منچ میں شامل ہوئے۔ صنعت کار اے ایس خان کو بنگلورو ضلع مسلم راشٹریہ منچ کا کنوینر بنایا گیا ہے۔ اے ایس خان 9 سال تک بنگلورو میں مسلم صنعتکاروں اور تاجروں کی تنظیم مسلم Industrialists ایسوسی ایشن (ایم آئی اے)  کے صدر رہے ہیں۔ فی الوقت ایم آئی اے کے کونسل ممبر ہیں۔ مسلم راشٹریہ منچ میں شمولیت کے بعد اے ایس خان نے کہا کہ سنگھ پریوار کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ اس منچ کے ذریعہ "ہم" کا نعرہ بلند کیا گیا ہے۔ "ہم" کا مطلب ہے ہندو اور مسلمان۔ انہوں نے کہا کہ مسلم طبقہ میں ڈر اورخوف کا ماحول ہے، عدم تحفظ کا احساس ہے، اس نازک موقع پر مسلم راشٹریہ منچ آپس میں بھائی چارہ اور دوستانہ ماحول کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

اے ایس خان نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہوجائیں تو یہ ملک خوب ترقی کرے گا۔
اے ایس خان نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہوجائیں تو یہ ملک خوب ترقی کرے گا۔


اے ایس خان نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہوجائیں تو یہ ملک خوب ترقی کرے گا۔ مسلم راشٹریہ منچ کے تحت کرناٹک میں ان دنوں "ہم مضبوط بھارت مضبوط" کے عنوان سے مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے متعلق اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعہ مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی ترقی کیلئے غور و فکر کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو مین اسٹریم یعنی بنیادی دھارے میں لانا منچ کا اہم مقصد ہے۔ اس اجلاس سے مسلم راشٹریہ منچ کے کرناٹک انچارج ڈاکٹر ماجد تالیکوٹی، آر ایس ایس لیڈر ڈاکٹر جئے پرکاش، بی جے پی اقلیتی مورچہ کے نمائندے  سید سلام، معین الدین اور دیگر نے خطاب کیا۔ اجلاس میں نہ صرف مسلم بلکہ سنگھ پریوار سے وابستہ افراد بھی موجود تھے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 01, 2020 11:59 PM IST