உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi:دلی کی تہاڑ جیل میں پکڑے جانے کے ڈر سے قیدی نے نگل لیا موبائل فون، پھرجو ہوا۔۔۔

    دہلی کے تہاڑ جیل میں ایک قیدی نے نگل لیا موبائل۔

    دہلی کے تہاڑ جیل میں ایک قیدی نے نگل لیا موبائل۔

    ڈاکٹروں نے اینڈواسکوپی کے ذریعے اُس کے جسم سے موبائل فون نکالا۔ حالانکہ اب قیدی کی حالت مستحکم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (دلی جیل) سندیپ گوئل (Sandeep Goyal) نے واقعہ کی جانکاری دی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی میں واقع تہاڑ جیل (Delhi tihar Jail) میں جانچ کے دوران ایک قیدی نے عہدیداروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے ڈر سے ایک موبائل فون کو ہی نگل لیا (Jail Inmate Swollow Mobile Phone)۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔ پولیس نے بتایا کہ اینڈوسکوپی (Endoscopy) کرنے کے بعد قیدی کے جسم سے موبائل نکالا گیا۔ قیدی کے پیٹ میں رکھے موبائل سے متعلق ایکس رے کا مبینہ ویڈیو بھی ملا ہے۔ ڈاکٹروں نے اینڈواسکوپی کے ذریعے اُس کے جسم سے موبائل فون نکالا۔ حالانکہ اب قیدی کی حالت مستحکم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (دلی جیل) سندیپ گوئل (Sandeep Goyal) نے واقعہ کی جانکاری دی۔

      سندیپ گوئل کے مطابق، واقعہ پانچ جنوری کو پیش آیا جب جیل ملام جانچ کررہے ہیں۔ ملازمین جیسے ہی سینٹرل جیل نمبر 1 میں بند قیدی کے پاس پہنچے، اُس نے فون نگل لیا۔ عہدیداروں نے کہا کہ قیدی کو دین دیال اُپادھیاے اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں علاج کے لئے جی بی پنت اسپتال بھیجا گیا۔ گوئل نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے اینڈواسکوپی کے ذریعے اُس کے جسم سے موبائل فون نکالا۔ عہدیدار نے بتایا کہ قیدی کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے اور وہ واپس جیل میں ہے اور اُس کی حالت مستحکم ہے۔

      اپنے سیل کے پنکھے سے لٹک گیا قیدی
      کچھ مہینے پہلے ہی دلی کی سب سے محفوظ مانی جانے والی تہاڑ جیل میں ایک قیدی نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ لیکن ایک ملازم کے الرٹ رہنے کی وجہ سے خودکشی کی کوشش ناکام ہوگئی۔ عہدیداروں نے بتایا تھا کہ جہیز اور قتل کے الزام میں سینٹرل جیل نمبر 7 میں بند 30 سالہ قیدی نے اپنے سیل کے پنکھے سے لٹنے کی کوشش کی تھی۔ جیل ڈائریکٹرجنرل (Director General of Prisons) نے بتایا تھا کہ جیل کے ایک ملازم نے ملزم کو خودکشی کی کوشش کرتے سی سی ٹی وی پر دیکھا، جس کے بعد وہ فوری اُس کے وارڈ میں گیا اور قیدی کو بچالیا گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: