ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

نکاح رجسٹریشن سے قبل جہیز اور دوسری برائیوں کے خلاف لیا جائے گا حلف

مساجد سے امت مسلمہ کو بیدار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ وہیں عوامی بیداری کے لئے جگہ جگہ پر سیمینار، سمپوزیم اور جلسوں اور کانفرنسوں کے بھی انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

  • Share this:
نکاح رجسٹریشن سے قبل جہیز اور دوسری برائیوں کے خلاف لیا جائے گا حلف
نکاح رجسٹریشن سے قبل جہیز اور دوسری برائیوں کے خلاف لیا جائے گا حلف

بھوپال: سماج میں جہیزکی لعنت اور شادیوں کے نام پر ہونے والی غیر اسلامی رسومات کے خلاف تحریکیں تو اس سے پہلے بھی چلتی رہی ہیں، مگر احمد آباد کی عائشہ کے ذریعہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے بعد سماجی برائیوں کے خلاف منظم انداز میں تحریک شروع کر دی گئی ہے۔سماجی اصلاح کی یہ تحریک کسی ایک شہر تک محدود نہیں ہے، بلکہ اصلاح معاشرہ کے لئے ملک کے دیگر شہروں کے ساتھ راجدھانی بھوپال میں منظم انداز میں تحریک شروع کردی گئی ہے۔

بھوپال میں مسلم معاشرہ میں شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی، جہیز کی بڑھتی لعنت کے خلاف سخت قدم گزشتہ ماہ ہی اٹھایا جا چکا تھا اور مساجد کمیٹی، دارالقضا و دارالافتاء کے ذریعہ متفقہ طور پر میٹنگ کرکے اعلان کردیا گیا تھا کہ ایسی شادی جہاں پر ڈی جے، بینڈ باجا، آتش بازی یا دیگر غیر اسلامی رسومات ہوں گی، ان کا نکاح نہیں پڑھایا جائے گا اور جب احمد آباد کی عائشہ کا معاملہ سامنے آیا تو مساجد کمیٹی، دارالقضا اور دارالافتاء کے ذریعہ سماجی اصلاح کی تحریک کو اور تیز کردیا گیا۔


احمد آباد کی عائشہ کے ذریعہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے بعد سماجی برائیوں کے خلاف منظم انداز میں تحریک شروع کر دی گئی ہے۔
احمد آباد کی عائشہ کے ذریعہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے بعد سماجی برائیوں کے خلاف منظم انداز میں تحریک شروع کر دی گئی ہے۔


اس ضمن میں جہاں مساجد سے امت مسلمہ کو بیدار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ وہیں عوامی بیداری کے لئے جگہ جگہ پر سیمینار، سمپوزیم اور جلسوں اور کانفرنسوں کے بھی انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ بھوپال میں مساجد کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ اصلاح معاشرہ کانفرنس میں علمائے دین کے ساتھ، ماہرین تعلیم، دانشور اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ مساجد کمیٹی کے ذریعہ بھوپال شہر قاضی کی صدارت میں منعقد کی گئی کانفرنس میں شہر قاضی سید مشتا ق علی ندوی نے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جہاں جہیز کی لعنت کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہیں انہوں نے امت مسلمہ سے بیٹیوں کو جہیز کی جگہ میراث میں حصہ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں نکاح ایک عبادت ہے اور عبادت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کی جائے گی تو مثالی معاشرہ قائم ہوگا۔
ممتاز عالم دین مولانا محمد یعقوب نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں جہیزکی کوئی جگہ نہیں ہے اور جس چیز کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے سبھی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صرف جہیز ہی نہیں بلکہ شادیوں کے نام پر ہونے والی غیر اسلامی رسومات کا بھی بائیکاٹ کیا جانا چاہئے اور یہ سبھی کی مشترکہ کوشش سے ہی ممکن ہے۔

عوامی بیداری کے لئے جگہ جگہ پر سیمینار، سمپوزیم اور جلسوں اور کانفرنسوں کے بھی انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
عوامی بیداری کے لئے جگہ جگہ پر سیمینار، سمپوزیم اور جلسوں اور کانفرنسوں کے بھی انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔


سماجی کارکن اور مسلم ایجوکیشن اینڈکیریئر پروموشن سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر ظفر حسن نے نکاح سے قبل دولہا اور دلہن اور ان کے عزیز واقارب کی جہیز اور دیگر غیر اسلامی رسومات کے خلاف کاؤنسلنگ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ ڈاکٹر ظفر حسن نے مساجد کمیٹی کے ذمہ داران سے نکاح رجسٹریشن سے قبل حلف نامہ لینے کا بھی مشورہ دیا تاکہ حلف دینے کے حوالے سماجی برائی کے خاتمہ کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے قدم اٹھائیں اور مثالی معاشرہ کو قائم کرنے میں سب کا تعاون شامل ہوسکے۔ بھوپال میں منعقدہ کانفرنس میں آئے مشوروں کے بعد مساجد کمیٹی نے نکاح رجسٹریشن سے قبل لڑکی اور لڑکا کے گھروالوں سے حلف نامہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ بھوپال کی مساجد میں آج سے 15 مارچ تک علمائے دین کی نگرانی میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ جہیز اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف عوام کو بیدار کیا جا سکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 07, 2021 10:31 PM IST