உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آندھراپردیش میں کوروناسے جنگ:رینڈم ٹیسٹ اورماسک تقسیم کرنےکافیصلہ،جنگی پیمانے پرہوگاسروے

    کورونا وائرس: ہندوستان میں اب تک 873 معاملات ، 775 معاملات ایکٹیو، اب تک 19 کی موت

    کورونا وائرس: ہندوستان میں اب تک 873 معاملات ، 775 معاملات ایکٹیو، اب تک 19 کی موت

    آندھراپردیش کے کرشنا اور وجےواڑاضلاع میں رینڈم ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔روزانہ ایک ہزار لوگوں کو ٹیسٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔

    • Share this:

    آندھراپردیش کے کرشنا اور وجےواڑہ اضلاع میں آج سے رینڈم ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔روزانہ ایک ہزار لوگوں کو ٹیسٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔ انتظامیہ کے طرف سے ایک میڈیکل ٹیم شہر گاؤں اور قصبوں کا دورہ کر کے لوگوں کے نمونے لینے کے بعد ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ کرشنا اور وجےواڑہ میں پورے دس سےزیادہ جگہ پر آج سے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں .ضلع کلکٹر امتیاز احمد نے بتایا ٹیسٹ کٹ انتظامیہ تک پہنچ گئے ہیں اور کورونا کی علامتیں رکھنے والے افراد کے سیمپل لیے جارہے ہیں۔


    ٹیسٹ کے دوران پازیٹو کیس ملتاہے تو اسے اسپتال سے رجوع کروایاجائیگا۔آندھراپردیش حکومت نے کورونا کی وباء پر قابوپانے کے لیے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیاہے۔ کلکٹر امتیاز احمد نے عوام سے اپیل کی اس سلسلہ میں عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے لاک ڈاؤن کے مدنظر گھروں میں ہی رہنے کی اپیل کی ہے۔ ریڈ زون میں رہنے والے عوام کو ضروری اشیاء ان کے گھروں پر ہی فراہم کیےجارہے ہیں۔

    یادر ہے کہ اس پہلے آندھراپر دیش حکومت نے کورونا کی وباء پر قابوپانے کے لیے ماسک تقسیم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی نے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو حکومت کی جانب سے ماسک فراہم کیاجائیگا۔ پورے آندھراپردیش میں 4.5 کروڑ کی آبادی ہے۔ جگن حکومت نے ہر شہری کو 3ماسک فراہم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی نے آندھراپردیش میں بڑھ رہے کورونا کے معاملوں پر قابوپانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی حکام کو ہدایت دی ہے۔ وہیں دوسری جانب تیسری مرتبہ جنگی پیمانے پر گھر۔گھر سروے کروانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔سروے کے دوران اگر کوئی شخص کھانسی ، بخار سے متاثر پایاجاتا ہے تو اسے جلدہی اسپتال پہنچایا جائیگا۔وہیں ریاست میں کانگریس لیڈروں نے ریڈ زون ہاٹ اسپاٹ پر توجہ دینے پروزوردیاہے۔ کانگریس نے گھروں میں قیام کرنے واے بزگ شہریوں کی صحت کی جانکاری حاصل کرتے ہوئے انہیں طبی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

     
    Published by:Mirzaghani Baig
    First published: