ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: ناراض کسانوں نے جانوروں کو کھلائیں اپنی سبزیاں، لاک ڈاون کی سختی سے کسان پریشان

لاک ڈاؤن کی سختی سے جہاں عوام کی معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ وہیں بھوپال اور اس کے آس پاس کےکسانوں نےحکومت اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی سے ناراض ہوکر اپنی سبزیوں کو جانوروں کو کھلانا شروع کردیا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: ناراض کسانوں نے جانوروں کو کھلائیں اپنی سبزیاں، لاک ڈاون کی سختی سے کسان پریشان
مدھیہ پردیش میں ناراض کسانوں نے جانوروں کو کھلائیں اپنی سبزیاں

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کا اعلان کئےجانےکے بعدمدھیہ پردیش میں بھی لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کی سختی سے جہاں عوام کی معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ وہیں بھوپال اور اس کے آس پاس کےکسانوں نےحکومت اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی سے ناراض ہوکر اپنی سبزیوں کو جانوروں کو کھلانا شروع کردیا ہے۔

واضح رہےکہ مدھیہ پردیش میں 24 اضلاع میں کورونا وائرس دستک دے چکا ہے اور مدھیہ پردیش میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر ساڑھے 700 پہنچ گئی ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد قہر سے حکومت اورانتظامیہ نے لاک ڈاؤن کو اورسخت کردیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی سختی کے سبب کھیتوں میں کسانوں کی تیار سبزیاں نہ صرف خراب ہو رہی ہیں بلکہ ٹماٹرہک پک کر خراب ہورہے ہیں۔ بھوپال گنگا کے پاس آج کسان ٹریکٹر میں اپنی سبزیاں لےکر منڈی کے لئے روانہ ہو نا چاہتے تھے، لیکن پولیس انتظامیہ نےجب انہیں جانےکی اجازت نہیں دی تو ناراض کسانوں نے ٹریکٹر ٹرالی میں بھری اپنی سبزیوں کو جانوروں کو کھلا دیں۔


بھوپال اور اس کے آس پاس کےکسانوں نےحکومت اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی سے ناراض ہوکر اپنی سبزیوں کو جانوروں کوکھلانا شروع کردیا ہے۔
بھوپال اور اس کے آس پاس کےکسانوں نےحکومت اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی سے ناراض ہوکر اپنی سبزیوں کو جانوروں کوکھلانا شروع کردیا ہے۔


دیول گاؤں کے کسان ونود کشواہ کہتے ہیں کہ کسان کے پاس اپنی زندگی گزارنے کےلئے اناج اور سبزیاں ہیں ہوتی ہیں، لیکن انتظامیہ ہم کسانوں کی مجبوری کو سمجھنےکو تیار نہیں ہے۔ کسان سبزی اور اناج بیچ کر اپنی اور اپنےگھر والوں کی کفالت کرتے ہیں، لیکن جب انہیں منڈی تک جانےکا موقع نہیں دیا جا رہا تو کھیتوں میں سبزیوں کو سڑانے سے بہتر ہےکہ جانوروں کو ہی کھلا دیں کم ازکم ان کا تو پیٹ بھرے گا۔

دیول گاؤں کے کسان ونود کشواہ کہتے ہیں کہ کسان کے پاس اپنی زندگی گزارنے کےلئے اناج اور سبزیاں ہیں ہوتی ہیں، لیکن انتظامیہ ہم کسانوں کی مجبوری کو سمجھنےکو تیار نہیں ہے۔
دیول گاؤں کے کسان ونود کشواہ کہتے ہیں کہ کسان کے پاس اپنی زندگی گزارنے کےلئے اناج اور سبزیاں ہیں ہوتی ہیں، لیکن انتظامیہ ہم کسانوں کی مجبوری کو سمجھنےکو تیار نہیں ہے۔


وہیں بھوپال باغ سیونیاں، مسرود اور امرائی پاک کے پاس ضروری اشیا کی قلت سے پریشان عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوا تو انہوں نے سڑک پر نکل کر احتجاج کیا اورحکومت و انتظامیہ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقامی لوگوں نے حکومت اور انتظامیہ سے لاک ڈاؤن میں ضروریات زندگی کےلئے ضروری اشیا کو مہیا کرانےکا مطالبہ کیا۔ تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کےگھرکا چولہا جل سکے۔ وہیں بھوپال کلکٹرترون پتھوڑے نےکہا کہ کسانوں کی مجبوری اور درد کو ہم سمجھ رہے ہیں اور کسانوں کی سبزیوں کو منڈی تک لانےکےلائے پاس بھی بنائے جا رہے ہیں، جن لوگوں کے پاس کی مدت ختم ہو گئ ہے۔ انہیں پریشان ہونےکی ضرورت نہیں ان کے یہی پاس تین مئی تک کام کریں گے۔
First published: Apr 14, 2020 04:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading