ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں اقلیتوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی!، ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی کیلئے ایڈمنسٹریٹر کیا نامزد

کورونا وبا کی وجہ سے انتخابات کا اعلان نہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی کیلئے ایڈمنسٹریٹر نامزد کیا ہے، لیکن اب بی بی ایم پی وارڈوں کے ریزرویشن کی نئی فہرست کے منظر عام پر آنے کے بعد انتخابات کی تیاریاں اور انتخابی سیاست بھی شروع ہوچکی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں اقلیتوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی!، ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی کیلئے ایڈمنسٹریٹر کیا نامزد
کرناٹک میں اقلیتوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی!

بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (BBMP) کا شمار ملک کے بڑے بلدیاتی اداروں میں ہوتا ہے۔ 198 وارڈوں پر مشتمل بنگلورو مہانگر پالیکے کی کونسل کی پانچ سالہ معیاد حال ہی میں مکمل ہوئی ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے انتخابات کا اعلان نہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی کیلئے ایڈمنسٹریٹر نامزد کیا ہے، لیکن اب بی بی ایم پی وارڈوں کے ریزرویشن کی نئی فہرست کے منظر عام پر آنے کے بعد انتخابات کی تیاریاں اور انتخابی سیاست بھی شروع ہوچکی ہے۔ بی بی ایم پی وارڈوں کی نئی ریزرویشن فہرست پر سیاسی حلقہ میں ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔


دوسری جانب اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ وجہ صاف ہے، شہر میں مسلمانوں کی کثیر تعداد والے زیادہ تر وارڈوں کو خواتین اور دیگر طبقوں کیلئے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ بی بی ایم پی کے سابق اپوزیشن لیڈر اورکانگریس کے کارپوریٹر عبدالواجد نےکہا کہ اقلیتوں کی آبادی والے تمام وارڈوں کو ریزرو کردیا گیا ہے۔ آنے والے انتخابات کے پیش نظر منظم طریقے سے مسلم نمائندگی کو کم کرنےکی کوشش کی گئی ہے۔ عبدالواجد نے کہا کہ ان کے وارڈ منورائنا پالیہ کو خواتین کیلئے ریزرو کردیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی کثیر تعداد والے وارڈوں کو یا تو خواتین یا پھر دلت، پسماندہ طبقات کے امیدواروں کیلئے محفوظ کیا گیا ہے۔ عبدالواجد نے کہا کہ نہ صرف اقلیتوں بلکہ کانگریس پارٹی کے کئی کارپوریٹروں کے وارڈوں کو ریزرویشن کے تحت لایا گیا ہے۔ ریزرویشن کی نئی فہرست کے بعد عوام کی جانب سے اعتراضات داخل کرنے کیلئے چند دنوں کا وقت دیا گیا ہے۔ عبدالواجد کہتے ہیں کہ چونکہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے، ریزرویشن فہرست میں اقلیتوں کے نقطہ نظر سے کوئی بڑی تبدیلی کی امید کم ہی کی جاسکتی ہے۔ سال 2015 میں ہوئے بروہت مہانگر پالیکے کے انتخابات میں کل 198 وارڈوں میں 16 مسلم کارپوریٹر منتخب ہوئے تھے۔




روزنامہ پاسبان کے ایڈیٹر عبیداللہ شریف کہتے ہیں کہ بنگلورو میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد ہے، شہر میں تین مسلم اراکین اسمبلی موجود ہیں۔ کئی ارکان اسمبلی کی جیت اور ہار میں مسلم رائے دہندگان کا رول اہم رہتا ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے بنگلورو مہانگر پالیکے میں مسلم نمائندوں کی تعداد 30 سے زائد ہونی چاہئے، لیکن صرف 15 سے 18 مسلم امیدوار ہی منتخب ہوتے ہوئے آرہے ہیں۔ عبیداللہ شریف کہتے ہیں کہ BBMP میں مسلم نمائندگی میں کمی کی ایک اہم وجہ سال 2009 میں کی گئی وارڈوں کی حد بندی ہے۔ اس وقت ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ بی بی ایم پی کے وارڈوں کی ازسر نو تشکیل اور نئے وارڈوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بنگلورو کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہر کے دائرے میں توسیع کو دیکھتے ہوئے 100 وارڈوں پر مشتمل بنگلورو مہانگر پالیکے کو 198 وارڈوں میں تبدیل کیا گیا۔ عبیداللہ شریف نےکہا کہ ڈی لمیٹیشن کا  یہ کام اس انداز میں انجام دیا گیا کہ بی بی ایم پی میں اقلیتوں کی نمائندگی متاثر ہوئی۔



روز نامہ پاسبان کے ایڈیٹر عبیداللہ شریف نےکہا کہ اب آنے والے بی بی ایم پی انتخابات کے پیش نظر جاری کی گئی فہرست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ واضح طور پرناانصافی کی گئی ہے۔ 16 مسلم کارپوریٹروں کے وارڈوں میں دو یا تین کو چھوڑ کرباقی وارڈوں کو خواتین اور دیگر طبقوں کیلئے محفوظ کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر انور مانپاڈی نےکہا کہ حکومت اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو ضرور حکومت کے سامنے رکھیں گے۔سینئر صحافی صدیق آلدوری کہتے ہیں کہ بلدیاتی اداروں میں خواتین کیلئے 50 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا ہے۔ مسلم علاقوں کے زیادہ تر وارڈ اگرخواتین کیلئے مختص کئے گئے ہیں، تو مسلم خواتین کیلئے سیاست میں آگے آنے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔ ملی تنظیموں کو چاہئےکہ وہ مسلم خواتین کو سیاسی طور پر بیدار کریں۔ سیاسی میدان میں مسلم خواتین کی رہنمائی کیلئے اقدامات کریں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 18, 2020 11:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading