ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون اور این ار سی کے خلاف مغربی بنگال کے سرکس میدان میں 11 دنوں سے خواتین کا دھرنا جاری

خواتین کے مطابق یہ قانون انہیں اپنے ہی ملک میں کٹگھرے میں کھڑا کرے گا ، یہی وجہ ہے کے اس احتجاج میں ہرعمر کی خواتین شامل ہورہی ہیں ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون اور این ار سی کے خلاف مغربی بنگال کے سرکس میدان میں 11 دنوں سے خواتین کا دھرنا جاری
سی اے اے اور این ار سی کے خلاف مغربی بنگال کے سرکس میدان میں 11دنوں سے خواتین کادھرنا جاری

کولکاتہ شہر کے پارک سرکس میدان مں گزشتہ 11 دنوں سے خواتین دھرنے پر بیٹھی ہیں ۔ ان کے مطابق یہ قانون انہیں اپنے ہی ملک میں کٹگھرے میں کھڑا کرے گا  ، یہی وجہ ہے کے اس احتجاج میں ہرعمر کی خواتین شامل ہورہی ہیں ۔ آج خواتین نے پوسٹ کارڈ لکھ کر اور مہندی لگاکر احتجاج کیا ۔ احتجاج میں شامل عصمت جمیل کے مطابق انہیں اپنی نہ پیداٸش کی تاریخ یاد ہے اور نہ ہی ان کے پاس والدین کا کوٸی دستاویز ہے ، ایسے میں دستاویزات کے نام پر سواٸے راشن کارڈ کے اپنے بچوں کو دینے کے لٸے کچھ بھی نہیں ، جو ان کے بچوں کی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے گا ، جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو لے کر پریشان ہیں ۔

وہیں اس دھرنے میں شامل کویتا رحمان کے مطابق انہوں نے شادی کے بعد اسلام قبول کیا ، ایسے میں انہیں اپنے دستاویزات کو لے کر بھی پریشانی ہے ۔ وہیں اس دھرنے میں پہلے دن سے شامل جادو پور یونیورسیٹی کی طالبہ  اندرانی کے مطابق یہ قانون ملک کی جمہوریت کے خلاف ہے ، جو ایک خاص طبقہ کو نہ صرف کنارے کھڑا کرتا ہے ، بلکہ آپسی اتحاد کو بھی نقصان پہنچاٸے گا ۔ اندرانی کے مطابق وہ ہر اس دھرنے اور احتجاج میں شامل ہوں گی ، جو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہوگا ۔


خواتین کے مطابق یہ قانون انہیں اپنے ہی ملک میں کٹگھرے میں کھڑا کردے گا ۔
خواتین کے مطابق یہ قانون انہیں اپنے ہی ملک میں کٹگھرے میں کھڑا کردے گا ۔


پارک سرکس میدان میں خواتین کی حمایت میں سیاسی و سماجی لیڈران پہنچ رہے ہیں ۔ تاہم ترنمول لیڈران نے دوری بناٸی ہوئی تھی  ۔ دس دنوں بعد ٹینٹ لگانے ، مایٸک کے استعمال کی اجازت کو وزیر اعلی نے ہری جھنڈی دیکھاٸی ، جس کے بعد نہ صرف کولکاتہ میونسپل کارپوریشن حرکت میں آیا ہے ، بلکہ ترنمول لیڈران بھی دھرنا میدان کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ۔
First published: Jan 18, 2020 09:30 PM IST