ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

خواتین قیادت کیلئے تیار، سی اے اے اور این آر سی کی تحریک میں نظر آرہی ہے قائدانہ صلاحیت

خواتین نہ صرف میڈیا کے سوالات کا بخوبی جواب دے رہی ہیں ، بلکہ اسٹیج سے حیرت میں ڈالنے والی تقریریں کرکے احتجاج میں جان پھونک رہی ہیں ۔

  • Share this:
خواتین قیادت کیلئے تیار، سی اے اے اور این آر سی کی تحریک میں نظر آرہی ہے قائدانہ صلاحیت
خواتین قیادت کیلئے تیار، سی اے اے اور این آر سی کی تحریک میں نظر آرہی ہے قائدانہ صلاحیت

عام طور پر مسلم خواتین اس الزام کے سائے میں زندگی گزارتی رہی ہیں کہ ان کو گھروں کی چہاردیواری میں رکھا جاتا ہے ، برقعہ میں قید ہوتی ہیں اور گھر کے فیصلوں میں ان کا دخل نہ کے برابر ہوتا ہے ۔ لیکن کبھی مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کی موڈرنائزیشن کا تعلق کبھی بھی لباس سے نہیں رہا ہے ، انسان ماڈرن اپنے ذہن اور عمل سے ہوتا ہے ۔ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج مسلم خواتین کے ماڈرن ہونے کے ساتھ ساتھ قیادت کی صلاحیت کو بھی سامنے لے کر آیا ہے۔


گھروں کی بزرگ خواتین کبھی بھی اپنے سامنے نوجوان لڑکیوں کو پروان چڑھنےکا موقع نہیں دیتی تھیں ، لیکن وقت  بدل گیا ہے ۔ اب وہ خود اپنے ساتھ انہیں احتجاج کے مقام پر لاتی ہیں ۔ یہ خواتین نہ صرف میڈیا کے سوالات کا بخوبی جواب دے رہی ہیں ، بلکہ اسٹیج سے حیرت میں ڈالنے والی تقریریں کرکے احتجاج میں جان پھونک رہی ہیں ۔ یہاں نہ ہی کوئی سیاسی قائد ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی قائد ، جو سامنے سے خواتین کی رہنمائی کرتا نظر آرہا ہو۔ احتجاج کے مقام پر خواتین خود رہنما اور قائد کی ذمہ داری پوری کررہی ہیں ۔ مسلم سماج کا یہ بدلتا چہرا ہے ، جہاں خواتین نہ صرف اپنے حق کو حاصل کرنے کی طاقت رکھتی ہیں ، بلکہ دوسرے کے حقوق کو دلانے کی بھی حیثیت رکھتی ہیں۔


اب تک مذہبی قیادت کے زیر اثر رہا سماج اس بدلاؤ سے خوش ہے ۔ خاص کر نوجوان طبقہ خواتین میں مستقبل کے بہتر قائد کو دیکھ رہا ہے۔ غور کیجئے جب بھی کوئی امتحان کا نتیجہ آتا ہے ، اس میں بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیاں اول مقام حاصل کرتی ہوئی دیکھائی دے جاتی ہیں ۔ یہ تبدیلی کافی دنوں سے سماج کے ارد گرد گھوم رہی تھی ۔ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج نے خواتین کو اپنے آپ کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا اور وہ اس میں کامیاب نظر آرہی ہیں ۔ کبھی وہ میڈیا کے تلخ سوالوں کا جواب دیتی نظر آتی ہیں تو کبھی پولیس کے مظالم کا سامنا کرتی ہوئیں ۔ کبھی ان کے اوپر ہورہی تنقید کا سامنا کرتی ہیں تو احتجاج میں ہمیشہ جان پھونکنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر محاذ خواتین کا خیرمقدم کررہا ہے اور ہر مورچہ پر خواتین اپنی صلاحیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔


اب مسلم تنظیموں کو بھی خواتین کی اس طاقت کے احساس کو قبول کرنا چاہئے ۔ خواتین کو بھی اب موقع ملنا چاہئے ۔ کم سے کم ان کی صلاحیت کے بنیاد پر ۔ تمام جگہوں پر خواتین کو ان کی آبادی کے مطابق حصہ داری لازمی ہونی چاہئے ۔ دوسری طرف ظلم خواہ جہیز کے نام پر ہو یا پھر گھر میں ستائے جانے کے نام پر۔ ظلم تو ظلم ہے ، اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ مسلم تنظیموں کی جانب سے یہ پہل کی جاسکتی ہے ۔ لڑکیوں کی شادی میں جہیز نہیں ، جہیز لینے والوں کا سماجی بائیکاٹ ہو اور قاضی ایسے نکاح میں شامل نہ ہوں ، جہاں لڑکیوں کی شادی ان کی موجودگی میں جہیز کا محتاج بن رہی ہو۔

اب مسلم تنظیموں کو بھی خواتین کی اس طاقت کے احساس کو قبول کرنا چاہئے ۔ تصویر : محفوظ عالم ۔
اب مسلم تنظیموں کو بھی خواتین کی اس طاقت کے احساس کو قبول کرنا چاہئے ۔ تصویر : محفوظ عالم ۔


تعلیمی اعتبار سے مسلم خواتین کی حالت آج بھی اچھی نہیں ہے ، لیکن جن کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے ، انہوں نے اپنا بہتر دینے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ یہی وہ تعلیم یافتہ خواتین ہیں ، جن کے الفاظ اقتدار کی بنیادوں میں زلزلہ پیدا کررہا ہے ۔ سمجھنا آسان ہے کہ خواتین کو واقعی سماج کی طرف سے انصاف ملنے لگے ، تو صرف قائد کی کمی ہی پوری نہیں ہوگی ۔ بلکہ مسلم سماج کی مشکلیں بھی حل ہوجائیں گی ، جس کا جواب آزادی کے بعد سے ہی لوگ تلاش کر رہے ہیں ۔ لیکن اب تک انہیں اسکا کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔ جواب ان کے گھر میں ہی موجوود ہے اور وہ کہ اپنے گھر کی خواتین کو انصاف دینے کی مہم پوری ایمانداری سے شروع کی جائے ۔
First published: Jan 26, 2020 12:10 PM IST