ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سی اے اے مخالف بہار بند کے دوران ہوئی تھی موت ، اب تک تیجسوی اور تیج پرتاپ کی راہ دیکھ رہے ہیں عامر حنظہ کے والد

ایک مہینہ سے عامر کے گھر میں سناٹا پسرا ہے ، ماتم ہے اور ماں باپ کی آنکھوں میں درد کا وحشت ناک منظر ہے۔

  • Share this:
سی اے اے مخالف بہار بند کے دوران ہوئی تھی موت ، اب تک تیجسوی اور تیج پرتاپ کی راہ دیکھ رہے ہیں عامر حنظہ کے والد
ایک مہینہ سے عامر کے گھر میں سناٹا پسرا ہے ، ماتم ہے اور ماں باپ کی آنکھوں میں درد کا وحشت ناک منظر ہے۔

عامر حنظلہ اپنے گھر کا واحد کمانے والا نوجوان تھا ، بیگ کا کام کرتا تھا ، مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے فوقانیہ تک کی تعلیم حاصل کر کے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ دیا تھا اور کام کرنے لگا تھا ، تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ 21 دسمبر کو بھی صبح اپنے کام پر نکلا تھا ، جب اسے معلوم ہوا کی آج بہار بند ہے ، اسلئے کارخانہ کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ عامر نے سوچا جب گھر سے نکل گئے ہیں ، تو احتجاج میں شرکت کر لیتے ہیں ، لیکن عامر نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اب گھر واپس نہیں جا سکیں گے ۔ پھلواری شریف میں احتجاج کے دوران دنگا ہوگیا ، جس میں شرپسندوں نے عامر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔


ایک مہینہ سے عامر کے گھر میں سناٹا پسرا ہے ، ماتم ہے اور ماں باپ کی آنکھوں میں درد کا وحشت ناک منظر ہے۔ 20 دسمبر کی رات کافی خوبصوت تھی ۔ عامر کام سے لوٹا ، تو اپنے چھوٹے بھائیوں کو پڑھانے سمیت اپنی مفلسی کو دور کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ دوستوں سے اور رشتہ داروں سے بھی بات کی تھی ۔ 21 دسمبر کی صبح سخت سردی اور ٹھنڈی ہوا کے باوجود وہ اپنے کام کے لئے گھر سے نکلا تھا ، لیکن واپس نہیں آیا ۔ عامر کے والد محمد سہیل احمد ایک مہینہ بعد بھی اس حادثہ کو یاد کرکے رو دیتے ہیں ۔


سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے لوگوں پر پھلواری شریف میں پتھر چلنے لگا اور تھوڑی دیر بعد گولی چلنے لگی ۔ اچانک ہوئے اس حادثہ پر پولیس کے لوگ بھی حیران رہ گئے ۔ حادثہ فرقہ ورانہ فساد کی شکل اختیار کرگیا ۔ نوجوان عامر ایک گلی سے بھاگنے کی کوشش کررہا تھا ، جب وہ شر پسندوں کا شکار ہوگیا ۔ شرپسندوں نے چاقو اور راڈ سے حملہ کیا ، جس میں عامر حنظلہ کی موت ہوگئی ۔


زخم کا احساس صرف وہی کر سکتا ہے جس کو زخم ہوتا ہے ، باقی لوگ غم میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی تعزیت کا اظہار کردیتے ہیں ۔ عامر کی موت کی خبر سن کر پھلواری شریف میں قائم امارت شرعیہ بہار آگے آئی ۔ حکومت کو خبر کی گئی اور مناسب معاوضہ دینے کی اپیل شروع ہوئی۔ امارت شرعیہ نے خود ایک روپے کی مدد عامر کے والد سہیل احمد کو نہیں کی ، لیکن حکومت سے معاوضہ کی مانگ کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرلی ۔جےڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور نے اپنی تنخواہ سے ایک لاکھ روپیہ کی مدد کی ۔ جن ادھیکار پارٹی کے سپریموں پپو یادو نے 25 ہزار روپے دئے ۔ آرجےڈی کئی دنوں بعد مقتول کے گھر پہنچی ۔ آر جے ڈی لیڈر تنویر حسن نے پارٹی کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا چیک دیا ۔

مقتول عامر حنظلہ کی فائل فوٹو ۔ تصویر : محفوظ عالم ۔
مقتول عامر حنظلہ کی فائل فوٹو ۔ تصویر : محفوظ عالم ۔


مسلم تنظیم اور سماجی کارکنوں کی اپیل پر حکومت نے  معاوضہ دینے کا اعلان کیا ۔ پٹنہ کی ضلع انتظامیہ کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ چیک کی شکل میں دیا گیا ۔ ضلع انتظامیہ نے لکھا کہ عامر کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے اور یہ حادثہ فرقہ ورانہ فساد کے تحت ہوا ۔ ضلع انتظامیہ نے معاوضہ دیا ، لیکن بینک میں تین سال کیلئے اس معاوضہ کو لاک کردیا ۔ سہیل احمد کو وہ رقم اب تین سالوں کے بعد مل سکے گی ۔

اب سب سے بڑا سوال

سی اے اے کے خلاف میں بہار بند آر جے ڈی کی طرف سے بلایا گیا تھا ۔ بند کا خاص اثر بھی ہوا ۔ آر جے ڈی نہ ہی پھلواری شریف کے واقعہ کو روک پائی اور نہ ہی اس واقعہ میں زخمی ہونے والے لوگوں سے ملاقات کی ۔ عامر کے گھر جانے کی اب تک اپوزیشن لیڈر نے زحمت گوارہ نہیں کی ہے ۔ آر جے ڈی نے پھلواری شریف میں ایک ٹیم بھیجی اور اپنی ذمہ داری پوری کر لی ۔

لیکن لوگ سوال کررہے ہیں ، مقتول عامر کے والد بھی سوال کررہے ہیں ، سوال لالو پرساد کے بیٹے تیجسوی اور تیج پرتاپ سے کیا جارہا ہے کہ کیوں اب تک مقتول کے گھر تیجسوی اور تیج پرتاپ نہیں پہنچے ہیں ۔ تیجسوی اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ، کیا اپوزیشن لیڈر خود اپنی پارٹی کے پروگرام میں شرکت کرنے اور موت کے منہ میں چلے جانے والے عامر کے گھر جانا پسند نہیں کرتے ہیں ، یا ان کے پاس ان سب کاموں کے لئے وقت نہیں ہے ۔ کئی سوالات ہیں اور جواب صرف ایک ہے ، ووٹ بینک کی سیاست ۔ مسلمانوں کے ووٹوں پر سیاست کرنے والی پارٹی کو صرف مسلمانوں کے ووٹ سے مطلب ہے ۔ شاید اس کی زندگی سے نہیں اور نہ ہی اس کے غم سے ، زخموں سے یا اس کے جذبات سے ۔

علاقہ کے لوگ کہتے ہیں کی اب سیاست کا وہ دور ختم ہوگیا ہے کہ جب سیاسی لیڈران غریبوں کی فکر کرتے تھے اور اس کے غم کا ساتھی بنتے تھے ۔ اب صرف غریب کی بات کی جاتی ہے ، عملی طور پر غریبوں سے ملا نہیں جاتا ہے ۔ اس کے بنیادی حالات پر بات نہیں کی جاتی ہے ۔ اب تو ٹویٹر کا زمانہ ہے ، بڑے بڑے سیاسی قائد ٹویٹ سے ہی سیاسی میدان فتح کررہے ہیں اور غریبوں کو نوالہ کھلا رہے ہیں ۔
First published: Jan 20, 2020 10:04 PM IST