உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    CAA مخالف احتجاج : شرجیل امام پر چلے گا غداری کا کیس ، کورٹ نے طے کئے الزامات

    Delhi News: دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے سی اے اے کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں جواہر لال نہرو ( جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام (Sharjeel Imam) کے خلاف غداری کا الزام (Sedition Charge) طے کیا ہے ۔

    Delhi News: دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے سی اے اے کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں جواہر لال نہرو ( جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام (Sharjeel Imam) کے خلاف غداری کا الزام (Sedition Charge) طے کیا ہے ۔

    Delhi News: دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے سی اے اے کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں جواہر لال نہرو ( جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام (Sharjeel Imam) کے خلاف غداری کا الزام (Sedition Charge) طے کیا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے سی اے اے کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں جواہر لال نہرو ( جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام (Sharjeel Imam) کے خلاف غداری کا الزام (Sedition Charge) طے کیا ہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے اپنے آرڈر میں کہا کہ معاملہ میں آئی پی سی کی دفعہ 124 ، دفعہ 153 اے ، دفعہ 153 بی ، دفعہ 505 ، غیر قانونی سرگرمیاں ( انسداد) ایکٹ کی دفعہ 13 کے تحت الزامات طے کئے جاتے ہیں ۔

      پراسیکیوشن کے مطابق امام نے 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور 16 دسمبر 2019 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی تقریروں میں مبینہ طور پر آسام اور باقی شمال مشرق کو ہندوستان سے "علاحدہ کرنے " کی دھمکی دی تھی ۔ اپنے دفاع میں امام نے عدالت میں کہا تھا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے اور ان کا مقدمہ "حکومت کے قائم کردہ قانون کی بجائے بادشاہت کا چابک " ہے ۔

      وہیں استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ امام کے بیان سے پرتشدد دنگے ہوئے۔ شرجیل امام جنوری 2020 سے عدالتی حراست میں ہے ۔ دہلی پولیس نے اس معاملہ میں امام کے خلاف داخل کی گئی چارج شیٹ میں الزام لگایا ہے کہ اس نے مرکزی حکومت کے خلاف مبینہ طور پر بھڑکانے، نفرت پیدا کرنے اور ہتک عزت کرنے والی تقریریں کیں اور لوگوں کو اکسایا جس کی وجہ سے دسمبر 2019 میں تشدد ہوا ۔

      وہیں گزشتہ ہفتے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے عمر خالد کو سماعت کے دوران بیڑیوں یا ہتھکڑیوں کے ساتھ عدالت میں حاضر نہیں کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کووڈ-19 کی وجہ سے موجودہ حالات کے پیش نظر خالد کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش کیا جائے۔

      عدالت نے کہا کہ جب کووڈ-19 کی پابندیاں ختم ہو جائیں تو خالد کو ہتھکڑیاں یا بیڑیوں کا استعمال کئے بغیر باقاعدہ طور پر عدالت میں پیش کیا جائے ۔ عدالت نے یہ ہدایت خالد کے وکیل تردیپ پیس کی عرضی پر دی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: