ہوم » نیوز » وطن نامہ

گریٹر نوئیڈا کا رہنے والا ہے جامعہ کے پاس فائرنگ کا ملزم ، فیس بک پر لکھا تھا : شاہین باغ کھیل ختم

فائرنگ کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ اب دھیرے دھیرے اس کی شناخت بھی اجاگر ہورہی ہے ۔

  • Share this:
گریٹر نوئیڈا کا رہنے والا ہے جامعہ کے پاس فائرنگ کا ملزم ، فیس بک پر لکھا تھا : شاہین باغ کھیل ختم
جامعہ کیمپس کے باہر احتجاج کا ایک منظر

جامعہ نگر علاقہ میں جمعرات کی دوپہر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مارچ سے پہلے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ۔ ایک شخص نے کھلے عام بندوق لہراتے ہوئے فائرنگ کی ، جس میں ایک طالب علم زخمی ہوگیا ۔ فائرنگ کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ اب دھیرے دھیرے اس کی شناخت بھی اجاگر ہورہی ہے ۔ ایسا بتایا جارہا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص گریٹر نوئیڈا کے جیور کا رہنے والا ہے ۔ حالانکہ نیوز 18 اس شخص کی شناخت کی تصدیق نہیں کرتا ہے ۔


ایسا بتایا جارہا ہے کہ حملہ آور جامعہ کا طالب علم نہیں ہے ۔ آج فائرنگ سے پہلے وہ کئی مرتبہ فیس بک اکاونٹ پر لائیو بھی ہوا اور اس نے کئی پوسٹ بھی لکھیں ۔ اس نے لکھا تھا کہ شاہین باغ کھیل ختم ۔ اس سے پہلے اس نے لکھا تھا کہ کوئی ہندو میڈیا نہیں ہے یہاں ۔


جامعہ کے طلبہ میں شدید غم و غصہ


ادھر فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد جامعہ کے طلبہ میں شدید غم و غصہ نظر آرہا ہے ۔ جامعہ کی ایک ریسرچ اسکالر صفورہ نے کہا کہ پولیس کے سامنے نوجوان نے جس طرح بے خوف ہوکر گولی چلائی ہے ، اس سے پولیس کی کارکردگی پر کئی طرح کے سوال اٹھتے ہیں ۔پولیس سے چندقدم کی دوری پر ملزم پستول لہرا تارہا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ۔ گولی جس طالب علم کو لگی ہے اس کا نام شاداب ہے وہ جامعہ ماس کمیونکیشن کا طالب علم ہے اور اسے ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایاگیاہے ۔

ہولی فیملی کے پاس مظاہرہ جاری

اس واقعہ کے بعد طلبہ نے کچھ دیر کے لیے مارچ روک دیااور اس کے بعد مارچ آگے بڑھا ، جسے ہولی فیملی کے پاس روک دیاگیا ۔ طلبہ ہولی فیملی کے پاس سڑک پر بیٹھ کر مظاہرہ کررہے ہیں اور دہلی پولیس کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں ۔ جامعہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے  ۔انھوں نے کہا کہ پولیس کے سامنے جس طرح کا واقعہ پیش آیا ہے وہ حیران کن ہے ۔

خیال رہے کہ جامعہ کے طلبہ 15 دسمبر کو ہوئی پولیس کی کارروائی اور شہریت (ترمیمی ) قانون کے خلاف پچھلے ڈیڑھ ماہ سے مظاہرہ کررہے ہیں ۔ جامعہ کو آڑڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے آج راج گھاٹ تک مارچ نکالنے کا نعرہ دیا گیا تھا ، حالانکہ پولیس نے مارچ نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور مقامی لوگ ہولی فیملی سے لیکر جامعہ تک سڑک پر مظاہرہ کررہے ہیں ۔

یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ
First published: Jan 30, 2020 04:56 PM IST