ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ تشدد : 26 دنوں سے جیل میں بند ہیں 60 سالہ محمد اقرار ، سوالات کے گھیرے میں پولیس

میرٹھ کے لیساڑی گیٹ تھانہ علاقے کے تاراپوری کے رہنے والے 60 برس کے سن رسیدہ محمّد اقرار گزشتہ 26 دنوں سے جیل میں بند ہیں ۔

  • Share this:
میرٹھ تشدد : 26 دنوں سے جیل میں بند ہیں 60 سالہ محمد اقرار ، سوالات کے گھیرے میں پولیس
میرٹھ تشدد : 26 دنوں سے جیل میں بند ہیں 60 سالہ محمد اقرار ، سوالات کے گھیرے میں پولیس

گزشتہ سال 20 دسمبر کو میرٹھ میں ہوئے تشدد کے واقعات کے بعد ملزمین کے خلاف پولیس کارروائی اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا ، جس میں کئی بےگناہ افراد کو بھی ملزم بنایا گیا اور پھر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف معاملات واپس لینے پڑگئے ، لیکن بےگناہ افراد کی گرفتاری اور پولیس کی جانب سے کی گئی کاروائی کو لے کر کچھ ایسے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں ، جو پولیس کے غیر منصفانہ اور جانبدارانہ کارروائی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں اور 20  دسمبر کو پیدا ہوئے حالات کے لئے پولیس کو ہی کٹگھرے میں کھڑا کر رہے ہیں ۔


میرٹھ کے لیساڑی گیٹ تھانہ علاقے کے تاراپوری کے رہنے والے 60 برس کے سن رسیدہ محمّد اقرار گزشتہ 26 دنوں سے جیل میں بند ہیں ۔  20 دسمبر کو صبح  10 بجے کے قریب برہمپوری پولیس نے محمّد اقرار کو کسی وجہ کے بغیر گھر سے اٹھا لیا تھا ، جس کے ثبوت بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں موجود ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محمّد اقرار کو صبح حراست میں لیا گیا ، لیکن  ایف آئی آر میں معاملہ شام کو ہوئے تشدد میں شامل ہونے کا درج کیا گیا ۔


جیل میں بند اقرار کے فرزند کا کہنا ہے کہ 20 دسمبر کی صبح 10 بجے ان کے والد کو بنا کسی وجہ سے پولیس نے گھر سے اٹھا لیا اور پھر شام کو ہوئے تشدد کے واقعات میں نامزد کرکے جیل بھیج دیا ۔ وہیں ان کے وکیل کا کہنا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بنیاد پر یہ معاملہ پولیس زیادتی اور اُکساوے کی کارروائی کا بنتا ہے ، جس کو کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور پولیس کی جوابدہی طے کرنے کے لیے قانونی کاروائی انجام دی جا رہی ہے ۔




وہیں دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملات کی جانچ ایس آئی ٹی کر رہی ہے ۔ ایس ایس پی میرٹھ کے مطابق تشدد میں شامل افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی جاری رہے گی ، لیکن کسی بے گناہ کو نہیں پھنسایا جائے گا ۔

دریں اثنا میرٹھ  تشدد سے وابستہ ایسے تمام معاملات میں اب میرٹھ کی وکلا برادری نے آگے آکر نہ صرف بے گناہوں کی مفت قانونی مدد اور کیس لڑنے کی پیشکش کی ہے ، بلکہ اس طرح کے سبھی معاملات میں پولیس کارروائی کو کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے ۔
First published: Jan 16, 2020 11:11 PM IST