ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش میں سال رواں بورڈ امتحانات میں بڑے پیمانے پر مسلم طالبات کے ڈراپ آوٹ کا اندیشہ ! جانیں کیوں

سی اے اے مخالف تحریک میں شامل بچیوں نے یوپی بورڈ کے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔

  • Share this:
اترپردیش میں سال رواں بورڈ امتحانات میں بڑے پیمانے پر مسلم طالبات کے ڈراپ آوٹ کا اندیشہ ! جانیں کیوں
اترپردیش میں سال رواں بورڈ امتحانات میں بڑے پیمانے پر مسلم طالبات کے ڈراپ آوٹ کا اندیشہ ! جانیں کیوں

اترپردیش میں بورڈ کے امتحانات 18 فروری سے شروع ہو رہے ہیں ۔ لیکن شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل بچیوں نے امتحانات میں بیٹھنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ اس صورت حال سے یوپی بورڈ کے امتحانات میں بڑے پیمانے پر مسلم بچیوں کے ڈراپ آوٹ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بچیوں کے ساتھ ساتھ احتجاج میں شامل ان کی ماؤں کا بھی کہنا ہے کہ جب شہریت ہی باقی نہیں رہےگی ، تو ایسی تعلیم بھلا کس کام کی ہوگی ؟ ۔


یوپی بورڈ کے امتحانات 18 فروری سے شروع  ہو رہے ہیں اور 6  مارچ تک جاری رہیں گے ۔ ریاست کے کئی مقامات پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں ۔ اس احتجاج میں خواتین کےعلاوہ بڑی تعداد میں نوعمر بچیاں بھی شامل ہیں ۔ سی اے اے مخالف تحریک میں شامل بچیوں نے یوپی بورڈ کے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔ اسی طرح کا احتجاج الہ آباد کے روشن باغ میں گذشتہ 35 دنوں سے جاری ہے ۔ احتجاجی دھرنے میں بڑی تعداد میں ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کی طالبات بھی موجود ہیں ۔ لیکن دھرنے میں شامل بچیاں اور ان کی ماؤں کا کہنا ہے کہ شہریت بچانا ان کی پہلی ترجیح ہے ۔ ان کی دلیل ہے کہ اگر شہریت ہی نہیں رہی تو ایسی تعلیم سے کیا فائدہ ہوگا ؟


خواتین کے احتجاج میں شامل ہونے سے ان کی معمولات زندگی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ تصویر : مشتاق عامر ۔
خواتین کے احتجاج میں شامل ہونے سے ان کی معمولات زندگی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ تصویر : مشتاق عامر ۔


دوسری جانب یو پی بورڈ نے ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں ۔ بورڈ کی سکریٹری نینا سری واستو کے مطابق اس مرتبہ یوپی بورڈ کے ہائی اسکول اورانٹر میڈیٹ کے امتحانات کے لئے  56 لاکھ سات ہزار ایک سو 18 طلبہ و طالبات نے اپنا رجسٹریشن کرایا ہے ۔ بورڈ کی سکریٹری نے واضح کیا کہ امتحانات پہلے سے طے شدہ تاریخوں کے مطابق ہی کرائے جائیں گے ۔ نینا سری واستو کا کہنا ہے کہ امتحانات کے نظام الاوقات میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی ۔

خواتین کے احتجاج میں شامل ہونے سے ان کی معمولات زندگی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ شہریت قانون مخالف تحریک کی قیادت خواتین کے ہاتھوں میں ہے ، ایسے میں بچیوں کی پڑھائی اور امتحانات میں ان کی شمولیت بھی متاثر ہونے کے خدشات ہیں ۔ لیکن اس معاملہ میں خواتین کسی سمجھوتے کے موڈ میں نہیں دکھائی دے رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت کا تحفظ ان کی اولین ترجیح  ہے اور اس کے بعد ہی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔
First published: Feb 15, 2020 10:25 PM IST