ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے مخالف احتجاج : پولیس زیادتیوں کے خلاف پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں احتجاج کے دوران پولیس کی طرف سے کی جانے والی پرتشدد کی کارروائی ، پولیس فائرنگ میں ہونے والی اموات اور ریاستی حکومت کی طرف سے احتجاج کرنے والوں کے خلاف اجتماعی جرمانے کی عدالتی جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔

  • Share this:
سی اے اے مخالف احتجاج : پولیس زیادتیوں کے خلاف پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی
پولیس زیادتیوں کے خلاف پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی

اترپردیش میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کے دوران پولیس کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کےخلاف پاپولرفرنٹ آف انڈیا نےالہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے ۔ پاپولرفرنٹ نے لکھنو میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اپنے کار کنان کی گرفتاری پر بھی عدالت کے سامنے سوالات اٹھائے ہیں ۔ پی ایف آئی کے رکن محمد شہزاد کی طرف سے داخل عرضی میں ریاستی حکومت پر انسانی حقو ق کی پامالی کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے ۔


چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس وویک ورما کی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی ۔ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں احتجاج کے دوران پولیس کی طرف سے کی جانے والی پرتشدد کی کارروائی ، پولیس فائرنگ میں ہونے والی اموات اور ریاستی حکومت کی طرف سے احتجاج کرنے والوں کے خلاف اجتماعی جرمانے کی عدالتی جانچ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے وکیل کمل کرشن رائے کے مطابق عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس کی طرف سے تشدد کے جو بھی واقعات سامنے آئے ہیں ، ان سب کی جانچ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی سابق جج سے کرائی جائے ۔


ایڈوکیٹ کمل کرشن رائے کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف عوام کو جمہوری طریقے سے پر امن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ایسے میں پولیس کی جانب سے عوام کو تشدد کا نشانہ بنانا ، آئین اور قانون کی سخت خلاف ورزی ہے ۔ عرضی میں عدالت سے اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یو پی میں 15 دسمبر کے بعد سے ہونے والے عوامی مظاہروں کو پولیس نے تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ہے ۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ کئی شہروں میں ہونے والے پر امن مظاہروں کے دوران پولیس نے یکطرفہ طور سے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ  کی اور احتجاج کرنے والوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔


عرضی میں علی گڑھ ، لکھنؤ ، مظفر نگر، میرٹھ اور کانپور میں ہونے والی پولیس فائرنگ کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے۔ عرضی میں مسلم اکثریتی علاقوں میں پولیس کی طرف سے سیل کی گئی دکانوں کو کھولنے اور دکانوں کو اصل مالکان کے حوالے کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے ۔ عدالت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی درخواست قبول کرتے ہوئے سماعت کے لئے آئندہ 20  جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے ۔
First published: Jan 18, 2020 09:51 PM IST