ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے مخالف احتجاج ، لکھنئو تشدد کے ملزمین کی ہورڈنگس چوراہوں پر چسپاں، وصول کیا جائے گا جرمانہ

لکھنئو کا دل کہے جانے والے حضرت گنج چوراہے پر ، جس کا نام اٹل چوک کردیا گیا ہے ، 57 لوگوں کی ہورڈنگس ان کی تصویروں ، نام ، ولدیت اور مکمل پتوں کے ساتھ لگائی گئی ہیں۔

  • Share this:
سی اے اے مخالف احتجاج ، لکھنئو تشدد کے ملزمین کی ہورڈنگس چوراہوں پر چسپاں، وصول کیا جائے گا جرمانہ
سی اے اے مخالف احتجاج ، لکھنئو تشدد کے ملزمین کے چوراہوں پر لگائے گئے ہورڈنگس

انیس دسمبر دوہزار انیس کو لکھنئو میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہوئے مظاہرے کے دوران بھڑکے تشدد میں سرکاری املاک کے نقصان کی بھرپائی اور وصولیابی کیلئے حکومت اتر پردیش نے ملزمین کے نام اور تصویروں کے ساتھ  ہورڈنگس لکھنئو کے کئی اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر نصب کردئے ہیں ۔ یہ ہورڈنگس لکھنئو کے مختلف علاقوں میں اہم چوراہوں اور شہر کی شاہراہوں پر لگائی گئی ہیں اور اس میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ شہر کے کچھ اہم اور معزز شخصیات کے نام بھی شامل ہیں ۔ بالخصوص سابق آئی جی پولس ، ایس آر دارا پوری ، معروف وکیل اور رہائی منچ کے صدر شعیب ایڈوکیٹ، معروف سماجی کارکن صدف جعفر، معروف عالم دین مولانا سیف عباس اور مولانا کلب صادق کے فرزند کلب سبطین نوری کے ناموں کو لے کر شہر کی فضا تبدیل ہورہی ہے اور حکومت و پولس انتظامیہ کے اس عمل کی مذمت وتنقید کی جارہی ہے

لکھنئو کا دل کہے جانے والے حضرت گنج چوراہے پر ، جس کا نام اٹل چوک کردیا گیا ہے ، 57 لوگوں کی ہورڈنگس ان کی تصویروں ، نام ، ولدیت اور مکمل پتوں کے ساتھ لگائی گئی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ہورڈنگ پر دئے گئے لوگوں سے کتنی رقم وصول کی جائے گی ۔ چار ہورڈنگس پر 57 لوگوں کے نام ہیں جن سے کل ملا کرایک کروڑ 55 لاکھ 62 ہزار 537 روپئے کی رقم وصول کی جانی ہے ۔

معروف عالم دین اور سماجی کارکن مولانا سیف عباس کہتے ہیں کہ حکومت مسلم دشمنی پر آمادہ ہے ۔ مجھے سیاحوں کو بچانے اور دنگا روکنے کی پاداش میں سزا مل رہی ہے ۔ میں نے بڑے امام باڑے میں غیر ملکی سیاحوں اور اپنے ملک کے باشندوں کو بچانے کیلئے لوگوں سے تشدد برپا نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔ انہیں اپنے اپنے گھروں کو واپس بھیجا تھا ، جس کا انعام مجھے حکومت نے یہ دیا ہے کہ میرا نام ہی دنگا کرنے والے لوگوں میں شامل کردیاہے اور بغیر عدالت کے فیصلہ کے شہر کی سڑکوں اور چوراہوں پر بھی مشتہر کیا جارہا ہے ۔ یہ ہمارے آئین و دستور کے خلاف تو ہے ہی ساتھ ہی اخلاقیات کے خلاف بھی ہے ۔ مولانا سیف عباس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ دنگا بھڑکانے والے لوگ تو کھلےعام گھوم رہے ہیں اور مظلومین کو ناجائز طور پر پھنسایا جارہاہے ۔

معروف عالم دین مولانا خالد رشید نے بھی پولس انتظامیہ کے اس عمل اور حکومت اتر پردیش کے اس قدم کی مذمت و مخالفت کرتے ہوئے اس کو غیر دستوری بتایا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ لوگوں کے کیمروں میں ایسے بہت سے مناظر قید ہیں ، جن سے دنگا بھڑکانے والوں کی شناخت کی جاسکتی ہے ۔ لیکن پولیس اور حکومت کا عمل ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کے خلاف ہے ۔ لہٰذا  یہ باعث تحقیق ہے اور سبھی لوگوں کیلئے باعث توہین بھی ہے ۔ ہورڈنگس کو فوری طور پر اتارا جائے ۔

معروف ایڈوکیٹ اور رہائی منچ کے صدر شعیب ایڈوکیٹ بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں ، جن سے حکومت جرمانہ وصول کرنا چاہتی ہے ۔ واضح رہے کہ مولانا سیف عباس کی طرح شعیب ایڈوکیٹ بھی تمام تر الزامات کی تردید کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ حکومت مسلم مخالف کام کررہی ہے ۔ شعیب کے مطابق انہیں 18 دسمبر کی شام کو گھر میں نظر بند کیا گیا اور پھر رات ہی میں پولس نے گرفتار کرلیا ۔ جب 18 کو مجھے گرفتار کر لیا گیا ، تو 19 کو دنگا پھیلانے والے لوگوں میں میرا نام کیوں شامل ہے ؟ اس منظر نامے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پولس کس حد تک وزیر اعلیٰ کے دباو میں ہے ۔ شعیب ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ وہ کورٹ جائیں گے اور انصاف حاصل کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سبھی ملزمین کو عدلیہ سے انصاف ملے گا ، کیونکہ یوگی حکومت اور پولس انتظامیہ کی کارروائی آئین ودستور کے خلاف ہے اور یہ کارروائی لوگوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے کی جارہی ہے ، جس سے لوگ خوف میں مبتلا رہیں اور حکومت کی عوام مخالف کارروائیوں کے خلاف آواز بلند نہ کرسکیں

First published: Mar 06, 2020 09:29 PM IST