ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں جامعہ کے طلبہ اور پولیس میں تصادم ، 35 طلبہ زخمی

دہلی کے جامعہ نگر اور شاہین باغ علاقہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں جامعہ کے طلبہ اور پولیس میں تصادم ، 35 طلبہ زخمی
جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی (جے سی سی) نے بھی میران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جے سی سی نے کہا کہ ان کے اوپر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔۔(فائل فوٹو:نیوز18)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اور جامعہ نگر کے باشندوں سمیت کثیر تعداد میں مظاہرین کو پیر کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ نکالنے سے روکنے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراو ہوگیا ۔ اس تصادم میں 35 طلبہ کو چوٹیں آئی ہیں ، جن میں سے 25 طلبہ کا علاج ایک پرائیویٹ ہیلتھ سینٹر میں کیا جارہا ہے ۔


حالانکہ 10 طلبہ کی حالت سنگین بتائی جارہی ہے ۔ فی الحال دہلی پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے ہیں ۔ بتادیں کہ جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی قیادت میں جامعہ کے طلبہ اور سابق طلبہ سمیت مظاہرین نے ریلی نکالنے کی کوشش کی ۔ مظاہرین شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) ، اور این آر سی کے خلاف پارلیمنٹ کی طرف مارچ نکالنے کی کوشش کررہے تھے ۔


بتایا جارہا ہے کہ مظاہرین پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کیلئے جارہے تھے کہ اسی درمیان پولیس ہولی فیملی کے نزدیک لگائے گئے بیریکیڈ پر انہیں روک دیا ، جس کے بعد مظاہرین بیریکیڈ کو پار کرنے کی کوشش کرنے لگے اور بیریکیڈ کے اوپر چڑھ گئے ، جس کے بعد پولیس نے انہیں پیھچے دھکیلا اور دھکا مکی ہوگئی ۔



ادھر جامعہ کے پراکٹر نے بھی اعلان کیا اور طلبہ کو واپس آنے اور پولیس کے ساتھ جھڑپ نہیں کرنے کی اپیل کی ۔ دہلی ڈی سی پی نے بھی طلبہ سے اپیل کی کہ وہ آگے نہ بڑھیں ، کیونکہ ان کے پاس آگے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔



مظاہرین میں کئی خواتین بھی شامل تھیں ۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں ترنگا اٹھائے ہوئے تھے ۔ مظاہرہ کر رہی زیبا انہد نے کہا کہ دو مہینے سے ہم مظاہرہ کررہے ہیں ۔ ہم سے بات کرنے کیلئے سرکار کی طرف سے کوئی نہیں آیا ، اس لئے ہم ان کے پاس جانا چاہتے ہیں ۔
First published: Feb 10, 2020 05:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading