ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار کے دربھنگہ میں شاہین باغ جیسے مناظر:شہر سے لیکر گاؤں تک لوگوں کے احتجاجی مظاہرے

دربھنگہ کے دیہی علاقوں میں بھی احتجاج کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ شہر سے لیکر گاؤں تک روزانہ کوئی نہ کوئی پروگرام کر عام لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

  • Share this:
بہار کے دربھنگہ میں شاہین باغ جیسے مناظر:شہر سے لیکر گاؤں تک لوگوں کے احتجاجی  مظاہرے
دربھنگہ کے دیہی علاقوں میں بھی احتجاج کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ شہر سے لیکر گاؤں تک روزانہ کوئی نہ کوئی پروگرام کر عام لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے لوگوں کے لئے شاہین باغ ایک آڈیل بن گیا ہے۔ دربھنگہ کے دیہی علاقوں میں بھی احتجاج کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ شہر سے لیکر گاؤں تک روزانہ کوئی نہ کوئی پروگرام کر عام لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ خاص بات یہ ہیکہ دربھنگہ ضلع میں ہورہے احتجاج میں سبھی طبقہ کے لوگ شرکت کررہے ہیں۔ شہر میں جہاں لال باغ اور قلعہ گھاٹ میں خواتین کا احتجاج جاری ہے وہیں گاؤں کے لوگ بھی اپنے اپنے علاقہ میں سی اے اے، این پی آر کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں۔


دربھنگہ کے کیوٹی اسمبلی حلقہ اور جالے اسمبلی حلقہ کے کئی گاؤں میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج
دربھنگہ کے کیوٹی اسمبلی حلقہ اور جالے اسمبلی حلقہ کے کئی گاؤں میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج


دربھنگہ کے کیوٹی اسمبلی حلقہ اور جالے اسمبلی حلقہ کے کئی گاؤں میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج ہورہا ہے۔ احتجاج میں خواتین کے ساتھ سبھی عمر کے نوجوان اور بزرگوں کی شرکت ہورہی ہے۔ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے لوگ روزگار، غریبی، مہنگائی کا مدّعہ اٹھا رہے ہیں۔ انکے مطابق حکومت ہندو مسلم اتحاد میں درار پیدا کرنے کے لئے اس طرح کی قانون لائی ہے۔


سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے لوگ روزگار، غریبی، مہنگائی کا مدّعہ اٹھا رہے ہیں
سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہے لوگ روزگار، غریبی، مہنگائی کا مدّعہ اٹھا رہے ہیں


گاؤں کے لوگ یہ بھی کہتیں ہیں کی مہنگائی آسمان چھو رہی ہے لیکن اس تعلق سے کسی بھی طرح کا کوئ منصوبہ دیکھائ نہیں دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کی حکومت لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی۔ بے روزگار نوجوانوں کے ہاتھوں میں روزگار دینے کی مہیم چلاتی تو پورا ملک حکومت کی ستائش کرتا نظر آتا لیکن بنیادی مدّعہ کو درکنار کر ایک ایسے مدّعہ پر حکومت کام کررہی ہے جس کی ضرورت گاؤں کے لوگ محسوس نہیں کرتے ہیں۔

گاؤں کے احتجاج کو دیکھ کر ایسا لگتا ہیکہ گاؤں کے لوگ بھی اب کافی بیدار ہوگئے ہیں۔
گاؤں کے احتجاج کو دیکھ کر ایسا لگتا ہیکہ گاؤں کے لوگ بھی اب کافی بیدار ہوگئے ہیں۔


دربھنگہ کے مہولی، لوام، زیرو مائل اونسی، کھروا گاؤں میں منعقد ہونے والے پروگرام میں گاؤں کے کسان، مزدور اور خواتین کی بڑی تعداد شرکت کررہی ہے۔ گاؤں کے احتجاج کو دیکھ کر ایسا لگتا ہیکہ گاؤں کے لوگ بھی اب کافی بیدار ہوگئے ہیں۔ گاؤں میں ہونے والے پروگراموں میں علاقہ کے سیاسی رہنماؤں کی شرکت ہوتی ہے۔ وہ جہاں لوگوں کو اس قانون کی کمیوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

 شہر سے لیکر گاؤں تک روزانہ کوئی نہ کوئی پروگرام کر عام لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں
شہر سے لیکر گاؤں تک روزانہ کوئی نہ کوئی پروگرام کر عام لوگ اس قانون کے خلاف احتجاج کررہے ہیں


وہیں آئین کی حفاظت کے مدّعہ پر لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش میں جٹے نظر آتے ہیں۔ سیاسی لیڈروں کے مطابق عوام دستور میں دئے گئے حقوق کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت مزہبی بنیادوں پر آئین میں ترمیم کرنے کا کام کررہی ہے۔ گاؤں کے لوگوں کے مطابق وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہیں کی سماج میں تفریق ہو بلکہ اس کی جگہ حکومت کو عوام کی زندگی بہتر بنانے کے سلسلے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
First published: Jan 28, 2020 05:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading