ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بنگال کے وزیر خزانہ کا الزام ، جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں ان کی آواز دبائی گئی ، انوراگ ٹھاکر نے دیا یہ جواب

انوراگ ٹھاکر نے ٹویٹ کرکے کہا کہ میں نے جی ایس کونسل کی میٹنگوں میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ کسی کی بات کاٹتے ہوئے نہیں سنا ۔ آج ایسا لگ رہا تھا کہ بنگال کے وزیر خزانہ کا انٹرنیٹ کنیکشن ٹھیک نہیں تھا ۔

  • Share this:
بنگال کے وزیر خزانہ کا الزام ، جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں ان کی آواز دبائی گئی ، انوراگ ٹھاکر نے دیا یہ جواب
انوراگ ٹھاکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔

نئی دہلی : مرکزی وزیر خزانہ کی صدرات میں ہفتہ کو جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ ہوئی ۔ اس میٹنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر مرکزی اور بنگال حکومتیں آمنے سامنے نظر آئیں ۔ دراصل بنگال کے وزیر خزانہ امت مترا نے دعوی کیا کہ کونسل کی میٹنگ میں ہوئے فیصلوں کی جب انہوں نے مخالفت کی تو ان کی آواز نہیں سنی گئی ۔ مترا کے دعووں پر وزارت خزانہ کے وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر نے جواب دیا ۔


انوراگ ٹھاکر نے ٹویٹ کرکے کہا کہ میں نے جی ایس کونسل کی میٹنگوں میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ کسی کی بات کاٹتے ہوئے نہیں سنا ۔ آج ایسا لگ رہا تھا کہ بنگال کے وزیر خزانہ کا انٹرنیٹ کنیکشن ٹھیک نہیں تھا ۔ ٹھاکر نے کہا کہ وزیر خزانہ نے جی ایس ٹی کونسل میں کبھی بھی عدم اتفاق کو نہیں دبایا ۔ سینئر رکن کے ذریعہ اس طرح کے الزامات لگانا زیب نہیں دیتا ہے ۔



انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ وزیر خزانہ نے صبر و تحمل سے ہر رکن کو جتنا ضروری ہو اتنا وقت دیا ہے ۔ بھلے ہی اس کی وجہ سے گفتگو طویل کیوں نہ ہوگئی ہو ۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے امت مترا نے نرملا سیتارمن پر سنگین الزامات لگائے ۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے فیصلے کے اعلان کے بعد انہوں نے بار بار اعتراض ظاہر کرنے کی کوشش کی ، لیکن ان کی آواز نہیں سنی گئی ۔ اس کے علاوہ ورچوئل لنک کو کاٹتے ہوئے میٹنگ ختم کردی ۔

اتنا ہی نہیں مترا نے کہا کہ پی پی ای کٹ ، ہینڈ سینٹائزر ، کورونا انتظامات کیلئے ضروری آکسیجن جیسی میڈیکل سپلائی پر جی ایس ٹی لگانا عوام مخالف اور سخت فیصلہ ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 13, 2021 12:18 AM IST