ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Fights Back India:رمضان کے روزے نہ رکھنےپر اللہ سے طلب کرونگا معافی،یتیم بچوں کی آخری رسومات انجام دینے والےفیضل کااظہارخیال

فیضل کووڈ۔19 کی قہر کے دوراان نہ صرف غریب اور نادار افراد کو مفت میں اپنی کار کی خدمات مہیا کررہا ہیں بلکہ یتیموں کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے مدد بھی فراہم کررہے ہیں۔

  • Share this:
Fights Back India:رمضان کے روزے نہ رکھنےپر اللہ سے طلب کرونگا معافی،یتیم بچوں کی آخری رسومات انجام دینے والےفیضل کااظہارخیال
اترپردیش کے الہ ٰ آبادمیں فیضل انجام دیتے ہیں یتیم بچوں کی آخری رسومات

جہاں لوگ کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے خوف سے مشکل وقتوں میں ایک دوسرے کا ساتھ جھوڑ رہے ہیں۔ وہیں سنگم شہر پریاگ راج کا ایک شخص ضرورت مند لوگوں کی مدد کرکے مسیحا ثابت ہوا ہے۔فیضل سے ملیئے، جو رمضان البارک کے مقدس مہینے میں لوگوں کی آخری رسومات کی ادائیگی میں مدد کی غرض سے روزے نہیں رکھ رہے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں لوگوں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کررکھے ہیں، جب لوگ اپنے ہی رشتہ داروں کی مدد سے کترا رہے ہیں۔فیضل کووڈ۔19 کی قہر کے دوران نہ صرف غریب اور نادار افراد کو مفت میں اپنی کارکی خدمات مہیا کررہے ہیں بلکہ یتیموں کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے مدد بھی فراہم کررہے ہیں۔ اگرچہ فیضل خود ایک معمولی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن وہ کووڈ۔19 کے مریضوں کی لاشوں کے لیے مفت میں اپنی کار کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔


پریاگ راج کے علاقے اتراسویہ میں رہنے والے فیضل گذشتہ 10 سال سے غریبوں کی لاشوں کو مفت میں گاڑیاں مہیا کرنے کے لئے کوشاں ہیں، لیکن کووڈ۔19 کے مشکل وقت کے دوران ان کا زیادہ تر وقت ان لوگوں کی مدد کرنے میں صرف ہورہا ہے، جن کی کورونا سے وفات ہوئی ہے۔جیسے ہی انھیں مدد کے لیے فون آیا۔ وہ اپنی گاڑی کے ساتھ فورا ضرورت مندوں کی جگہ پر پہنچ رہے ہیں۔ وہ کبھی کسی سے پیسہ نہیں مانگتے لیکن کوئی اپنی صوابدید پر رقم پیش کرتا ہے تو اسے بخوشی قبول کرلیتے ہیں


کووڈ۔19 کی دوسری لہر کے دوران مریضوں کو اسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینس وقت پر دستیاب نہیں ہیں۔ تقریبا تمام ایمبولینس لوگوں کی مدد کے لیے سڑکوں پر ہی ہیں۔ ایسے میں فیضل کی اس مدد کو غیر معمولی انداز میں سرایا جارہے ہیں۔فیضل نہ صرف ذاتی خطرے میں لاشوں کی مفت تدفین کر کے بلکہ یتیموں کی آخری رسومات ادا کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک سچے سپاہی کی حیثیت سے پہنچانے جارہے ہیں۔


فیضل پنچ وقتہ نمازی ہیں۔ وہ اپنے اس بے مثالی کام کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزہ نہیں رکھ سکے۔ اس ضمن میں انھوں نے کہا کہ ’’میں اپنا روزہ صرف اس لئے چھوڑ رہا ہوں کہ اس کی وجہ سے میں کہیں لوگوں کی مدد نہ کرسکوں۔ میں اس بار اپنے روزے چھوڑنے کی وجہ سے اللہ سے معافی مانگ رہا ہوں‘‘۔

اس مقصد کو پورا کرتے رہنے کے لیے انھوں نے شادی تک نہیں کی۔ ان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’’اگر میں دنیاوی چیزوں میں مشغول ہو جاؤں تو پھر میرے کام میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے، لہذا میں شادی نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ایک ایسے وقت جب ہر طرف نفسانفسی ہے۔ لوگ اپنوں ہی کی مدد کے لیے بے چین و بے قرار ہے۔ ایسے میں فضیل کا یہ کارنامہ یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 29, 2021 12:59 PM IST