உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سُلّی ڈیلس کیس میں ایپ پروڈیوسر کی ضمانت عرضی مسترد،عدالت نے ضمانت نہ دینے کی یہ بتائی وجہ

    سلی ڈیلس ایپ کے پروڈیوسر اونکیشور کی ضمانت عرضی مسترد۔

    سلی ڈیلس ایپ کے پروڈیوسر اونکیشور کی ضمانت عرضی مسترد۔

    ’بلی بائی‘ ایپ معاملے میں اہم ملزم نیرج بشنوئی سے پوچھ تاچھ کے دوران اطلاع ملنے کے بعد دلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ٹھاکر کو پچھلے ہفتے اندور سے گرفتار کیا تھا۔دفاع اور استغاثہ فریق کی دلیلیں سننے کے عبد میٹروپولیٹن مجسٹریٹ وسندھرا چھاونکر نے ہفتہ کویہ حکم جاری کیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دلی کی ایک عدالت نے متنازع ’سلی ڈیلس‘ ایپ کے مبینہ پروڈیوسر اونکیشور ٹھاکر کی ضمانت عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت اُسے راحت دینے سے غیر جانبدار جانچ متاثر ہوگی۔ ایپ پر 100 سے زیادہ ممتاز مسلم خواتین کی تفصیلات شیئر کرکے یوزرس کو اُن کی ’نیلامی‘ کے لئے مدعو کرنے کے معاملے میں ملک بھر میں غصہ کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا۔

      ’بلی بائی‘ ایپ معاملے میں اہم ملزم نیرج بشنوئی سے پوچھ تاچھ کے دوران اطلاع ملنے کے بعد دلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ٹھاکر کو پچھلے ہفتے اندور سے گرفتار کیا تھا۔دفاع اور استغاثہ فریق کی دلیلیں سننے کے بعد میٹروپولیٹن مجسٹریٹ وسندھرا چھاونکر نے ہفتہ کویہ حکم جاری کیا۔

      1 جنوری کو پولیس نے درج کی تھی ایف آئی آر
      پولیس نے بتایا تھا کہ اُس نے بلی بائی ایپ بنانے والوں کے بارے میں جانکاری کے لئے بھی گٹ ہب سے رابطہ کیا ہے۔ عہدیدار نے کہا، ’’ہم نے ٹوئٹر سے اُس کے پلیٹ فارم سے ایسے کسی بھی متنازع مواد کو فوری ہٹانے اور بلاک کرنے کو بھی کہا ہے جسے مبینہ طور پر ایپ کے ذریعے شیئر کیا گیا اور جس کا پورے تنازع سے لینا دینا ہے۔

      بلی بائی ایپ کے معاملے میں گرفتار نیرج بشنوئی نے کھولے تھے کئی راز
      سوشل میڈیا (Social Media) پر مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والے ’بلی بائی‘ (Bulli Bai) ایپ کے معاملے میں آسام سے گرفتار نیرج بشنوئی نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں اُس نے کئی اہم راز کھولے ہیں۔ نیرج بشنوئی نے بتایا ہے کہ اُسے مخصوص مذہب سے شدید ناراضگی تھی اور وہ اُن خواتین کو ٹارگیٹ کرتا تھا جو سوشل میڈیا میں مخصوص مذہب یا مخصوص آئیڈیالاجی کو لے کر ایکٹیو رہتی تھیں۔ اُس نے کہا کہ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: