ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لاک ڈاؤن: ماہِ رمضان میں افطاروعبادات کےامورکی ادائیگی سے متعلق علمائےکرام کی بڑی اپیل

مولانا معین الدین اشرف نےکہا کہ رمضان المبارک میں صدقات وخیرات کا جذبہ مسلمانوں میں پیدا ہوتا ہے، اس لئے مسلمان اس جذبہ سے اپنے قریبی رشتہ داروں اور ضرورتمندوں و مستحقین کی دل کھول کر مدد کریں۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن: ماہِ رمضان میں افطاروعبادات کےامورکی ادائیگی سے متعلق علمائےکرام کی بڑی اپیل
علمائےکرام کا رمضان میں لاک ڈاؤن پر عمل کرنےکا مشورہ۔

ممبئی: ماہ رمضان کی آمد آمد ہے اور 3 مئی تک لاک ڈاؤن جاری رہنے والا ہے۔ اس درمیان علمائےکرام، عمائدینِ شہر اور مفتیان کرام کےساتھ اہم ملی سماجی و سیاسی شخصیات لاک ڈاؤن مسلم طبقے سےلاک ڈاؤن پر عمل پیرا رہنے اور روزہ افطار، تراویح اور پنج وقتہ نماز کیلئے اکھٹا نہ ہونےکی اپیل کی ہے۔ مسلم طبقے سے لاک ڈاؤن پر عمل کرنےکی گزارش کی ہے۔


ممبئی کےجامعہ قادریہ اشرفیہ کے روح رواں سجادہ نشین کچھوچھہ شریف آستانہ عالیہ حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نےکہا کہ رمضان المبارک میں صدقات اورخیرات کا جذبہ مسلمانوں میں پیدا ہوتا ہے، اس لئے مسلمان اس جذبہ سے اپنےقریبی رشتہ داروں اور ضرورتمندوں و مستحقین کی دل کھول کر مدد کریں، اس کے ساتھ ہی مدارس اسلامیہ کی بھی خبرگیری اور دستگیری کریں کیونکہ مسلمانوں کے ہی تعاون سے مدارس کے اخراجات کی تکمیل ہورہی ہے۔


معین الدین اشرف میاں نے مدارس کے سفراور دیگرخطوں میں مدارس کے مہتمم سے درخواست کی ہےکہ وہ لاک ڈاؤن کے سبب چندہ یا مالی امداد کیلئے ممبئی یا شہروں کا رخ نہ کریں۔ معین الدین اشرف نے مسلمانوں سے ماہِ رمضان میں عبادات اور تراویح کے دوران لاک ڈاؤن پر مکمل عمل کرنے اور انتظامیہ سےتعاون کرنےکی اپیل کی۔ معروف عالم دین مفتی  محمود اخترقادری نے بھی نماز تراویح اور دیگرعبادتیں رمضان المبارک میں گھروں پر ادا کرنےکا فتویٰ جاری کیا ہے اورکہا ہےکہ ایسےحالات میں لاک ڈاؤن کے سبب گھروں سے نکلنا بھی ممنوعہ ہے، اس لئے سفرا بھی چندہ کی غرض سےگھروں سے نکلنے سے اجتناب کریں۔


مسلم طبقے سے علمائے کرام نے لاک ڈاؤن پر عمل کرنےکی گزارش کی ہے۔
مسلم طبقے سے علمائے کرام نے لاک ڈاؤن پر عمل کرنےکی گزارش کی ہے۔


مولانا محمود دریا بادی اور ہانڈی والا مسجدکےامام اعجازکشمیری نے بھی رمضان المبارک میں تراویح اور دیگر نمازیں افطار اور دیگر مذہبی امور گھروں پر ہی ادا کرنےکی ترغیب دی ہے اورکہا ہےکہ رمضان المبارک کےاس مقدس مہینہ میں اللہ کو راضی کرنےکا وقت ہے ہم نے مانگنےکا سلیفہ نہیں ہے، اس لئے اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کردعا کریں تاکہ ہمیں اس کرونا وائرس جیسی بلا اور وبا سے نجات ملے۔ اسی طرح مساجد میں بھی عبادتوں کےنظام کو محدود کردیا گیا ہے اورصرف مسجدکا عملہ ہی رمضان المبارک میں بھی معمولات کے مطابق ہی عبادت و ریاضت کرے گا، جیساکہ لاک ڈاؤن کے دوران معمولات میں عبادت و ریاضت مسجد میں جاری تھی۔ اسی طرح سے مسجد میں جو عملہ موجود ہے، وہی معتکف بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لئے اس مرتبہ ہمیں عبادتوں میں تڑپ پیدا کرکے اللہ کےحضور میں معافی طلب کے ساتھ ملک وعالم کوکووڈ 19کی مصیبت پاک کرنے کیلئے خاص دعاؤں کا اہتمام کریں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 22, 2020 01:45 AM IST