ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا مٹی کے گھڑے کورونا وائرس سے بچا سکتے ہیں ؟

عالمی سطح پر ماہرین نے سردی ، زکام اور کھانسی کو کورونا وائرس کی ابتدائی علامتوں کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ کسی کو سردی ، زکام یا کھانسی نہ ہو ، اس کیلئے لوگ اپنے اپنے طور پر احتیاط برت رہے ہیں۔

  • Share this:
کیا مٹی کے گھڑے کورونا وائرس سے بچا سکتے ہیں ؟
کیا مٹی کے گھڑے کورونا وائرس سے بچا سکتے ہیں ؟

الہ آباد : کورونا وائرس کے خطرات نے تمام خاص و عام کو اس قدر خوف زدہ کر دیا ہے کہ اب اس معاملہ میں لوگ اپنی صحت کی سلامتی سے کسی طرح کا کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ اب لوگوں کی سمجھ  میں آنے لگا ہے کہ اس مہلک وائرس سے بچنے کیلئے خود حفاظتی تدابیر اختیار کرنی پڑے گی ۔ عالمی سطح پر بھی ماہرین نے سردی ، زکام اور کھانسی کو کورونا وائرس کی ابتدائی علامتوں کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ کسی کو سردی ، زکام یا کھانسی نہ ہو ، اس کیلئے لوگ اپنے اپنے طور پر احتیاط برت رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کورونا وائرس سے بچنے کیلئے شدید گرمی کے موسم میں بھی  ریفریجریٹرکا پانی پینے سے لوگ  گریز کر رہے ہیں ۔


اس وقت پورے شمالی ہند میں شدید گرمی کا دور جاری ہے ۔ درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس کے پار ہو گیا ہے۔ لیکن اس مرتبہ کورونا وائرس کے خوف کے چلتے لوگ گرمیوں میں بھی ریفریجریٹر کا پانی پینے سے بچ رہے ہیں ۔ اب لوگوں کا رجحان روایتی مٹی کے  گھڑوں  کی طرف ہو رہا ہے ۔ مٹی کے یہ گھڑے صدیوں سے گھروں میں استعمال ہوتے آئے ہیں ۔ خاص طور سے گرمی کے دنوں میں مٹی کے گھڑوں کا معتدل پانی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ طبی اعتبار سے بھی کافی فائدہ مند مانا گیا ہے ۔


News18 Poll : چین کے بارے میں کیا ہیں آپ کے نظریات ؟




گرچہ شہری اور دیہی علاقوں میں ٹھنڈے پانی کے لئے ریفریجریٹر کے پانی کا ہی چلن ہے ۔ لیکن کورونا وائرس نے لوگوں کے ذوق اور پسند کے سارے معیارات بدل کر رکھ  دئے ہیں ۔ گلے اور سینے کو خراش سے بچانے کیلئے مٹی کے گھڑوں کے استعمال کا چلن اچانک سے بڑھ گیا ہے ۔ الہ آباد میں ان دنوں سڑکوں پر مٹی کے گھڑوں کی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں ۔ ان مٹی کے گھڑوں میں ہر سائز کے گھڑے شامل ہیں ۔ شدید گرمی میں لوگ ریفریجریٹرکا پانی یا دیگر کولڈ ڈرنکس سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مٹی کے برتن بنانے والے کار یگروں کا کہنا ہے کہ پہلے گرمیوں میں مٹی کے گھڑے صرف غریب طبقہ کے افراد ہی خریدتے تھے ۔ لیکن اس مرتبہ گرمی میں سماج کے تمام طبقے مٹی کے گھڑوں کو ترجیح دے رہے ہیں ۔

کمہار برادری سے تعلق رکھنے والے ایک برتن ساز رام کمار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ گرمیوں میں کارو بار اچھا چل رہا ہے ۔ رام کمار کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ، لوگ مٹی کے گھڑوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مٹی کے فینسی گھڑے بھی بنانے شروع کر دئے ہیں ۔ تاکہ یہ گھڑے لوگوں کی ڈرائنگ روم کی زینت بن سکیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ گھڑے میں ٹونٹی لگانے اور اس کو ڈیزائن دار بنا کر اس میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مٹی کے بر تن بنانے والے کاریگروں کا کہنا ہے کہ گھڑے کا پانی معتدل ہوتا ہے اور یہ صحت کیلئے بھی فائدہ مند ہوتا ہے ۔
First published: Jun 02, 2020 09:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading