ہوم » نیوز » وطن نامہ

اللہ اکبر ... کیا آپ یہ پڑھ کر ڈر گئے ؟

ہندو سواستک کا نشان اکثر اپنے گھڑوں پر استعمال کرتے ہیں ، بھگوا جھنڈا بھی لگاتے ہیں تو ہمیں عجیب نہیں لگتا ، لیکن اگر کوئی سبز پرچم گھر پر یا پھر چاند کا استعمال کرے ، تو پھر سنسنی سی کیوں دوڑنے لگتی ہے ۔ کیوں لگتا ہے کہ یہ کام ملک مخالف ہے ؟

  • Share this:
اللہ اکبر ... کیا آپ یہ پڑھ کر ڈر گئے ؟
علامتی تصویر ۔ فوٹو : اے پی ۔

افسر احمد


اچھا یہ بتائیے ، کسی داڑھی ، ٹوپی والے کو دیکھ کر آپ کو ڈر لگتا ہے ... نہیں .. اچھا تو یہ بتائیے جب کسی کو اردو پڑھتے دیکھتے ہیں تو کیا آپ کو ڈر لگتا ہے ... نہیں ... تو جب کوئی اللہ اکبر بولتا ہے تو کیا آپ کو ڈر لگتا ہے ... سچ کہوں تو زیادہ تر لوگوں کا جواب ہاں ہی ہوگا ۔


سبز پرچم ڈراتا کیوں ہے ؟


یہیں سے ہمیں اپنی بحث کی شروعات کرنی ہوگی ۔ ہندو سواستک کا نشان اکثر اپنے گھڑوں پر استعمال کرتے ہیں ، بھگوا جھنڈا بھی لگاتے ہیں تو ہمیں عجیب نہیں لگتا ، لیکن اگر کوئی سبز پرچم گھر پر یا پھر چاند کا استعمال کرے ، تو پھر سنسنی سی کیوں دوڑنے لگتی ہے ۔ کیوں لگتا ہے کہ یہ کام ملک مخالف ہے ۔ اگر ہندووں کے شلوک اور مذہبی نشان عام سی بات ہیں تو پھر مسلمانوں کو لے کر یہ خوف کیوں بنا ہے ، کیا یہ نیا ہے یا یہ پہلے سے ہے ۔


ہم اجنبی کب ہوئے ... ۔


ذرا سوچئے آخر ساتھ رہ کر بھی ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے اتنے اجنبی کب اور کیسے ہوگئے ۔ دونوں سماج کے درمیان لاعلمی اور عدم اعتماد کی دیوار کھڑی ہوچکی ہے یا آپ کہیں کھڑی کردی گئی ہے ۔ اس کو سمجھانے کیلئے تقریتا تین دہائی پیچھے جانا ہوگا ۔ بابری مسجد تنازع کے بعد دونوں طبقوں کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی اس کو ابھی تک  ختم نہیں کیا گیا ہے بلکہ آنے والے وقت کے ساتھ یہ بڑھتی ہی جارہی ہے ۔


ہم بھیں دیکھیں گے ... کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں ؟


مثال سامنے ہے ۔ اترپردیش میں جب ایک مولانا نے علامہ اقبال کی مشہور نظم لب پہ آتی ہے دعا ... بچوں سے گانے کیلئے کہا تو اچانک یہ لگا کہ وہ ایسا کرکے ملک مخالف کام کررہا تھا جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ وہ مشہور نظم کئی مرتبہ فلموں سے لے کر حقیقت کی زندگی میں گائی جاتی رہی ہے ۔ جب اس کی حقیقت سامنے آئی تو سب کو لگا کہ یہ فالتو کا رد عمل تھا ۔ سی اے اے کی مخالفت کے دوران آئی آئی ٹی کانپور میں طلبہ نے جب مشہور شاعر فیض احمد فیض کی انقلابی نظم ہم بھی دیکھیں گے پڑھی ، تو ایک پیغام دیا گیا کہ یہ ہندو مخالف ہے ۔ بعد میں جب اس پر بحث شروع ہوئی تو حقیقت کچھ اور ہی نکلی ۔ اب آئی آئی ٹی کانپور کی انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ وہ فیض کی نظم نہیں بلکہ وہاں لگے کچھ دیگر نعروں کی جانچ کررہی ہے ۔


بات چیت کیوں نہیں ؟


آخر یہ سب کیا ہے ، کیوں ایسا ہو رہا ہے کہ لگتا ہے کہ اگلے پل ہی داڑھی والا آکر بم پھوڑ دے گا یا کچھ برا ہونے والا ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں سماج کے درمیان پیدا ہوئی عدم گفتگو کی خلیج ہے ۔ ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی ہے ۔ روز مرہ کی زندگی سے تیزی سے غائب ہورہی دونوں کی مشترکہ تہذیب بھی ہے ۔


اور مجھے سات دنوں تک دہلی میں گھر نہیں ملا


مثال کے طور پر دہلی میں جب میں نے لکشمی نگر علاقہ میں 2006 میں گھر کی تلاش شروع کی تو تقریبا سات دنوں کی تگ و دو کے بعد بھی مجھے گھر نہیں ملا ۔ لوگ میرا مذہب جانتے ہی انکار کردیتے تھے ۔ ایک میرا دوست وہیں رہتا تھا ۔ میں نے اس سے کہا تو اس نے سامنے ایک ڈیری والے کا گھر تھا ، اس سے بات کی ۔ ڈیری والے سے میری بات چیت ہوئی ۔ وہ کرایہ پر کمرہ دینے کیلئے تیار تھا ، لیکن جب اس نے میرا نام پوچھا تو مایوس ہوگیا اور ٹال مٹول کرنے لگا ۔ میں نے اپنے دوست کو بتایا ، اس نے ڈیری والے سے بات کی ۔ ڈیری والے  نے کہا کہ مسلمانوں کو گھر نہیں دیتے ۔ میرا دوست حیرت میں پڑ گیا  ۔ اس نے کہا کہ میں بھی مسلمان ہوں اور روز  میری آپ کی نمسکار ہوتی ہے ... خیر بات یہیں ختم ہوگئی ۔


وہ گلی


لیکن مجھے جو گھر ملا وہ ایک سکھ کنبہ کے یہاں ملا اور وہ بھی اسی گلی میں جس میں ڈیری والے کا گھر تھا ۔ کچھ دنوں تک وہاں رہنے کے بعد ڈیری والے کے کنبہ سے ہماری بات چیت ہونے لگی اور دونوں کے درمیان عدم اعتماد جیسی چیز ختم ہوگئی ۔


یہاں اس واقعہ کا تذکرہ کرنے کے پیچھے میرے دو مقاصد ہے ۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ یہ وہم دور کرلیا جائے کہ ایسا صرف مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ عام طور جب ایک سماج کا فرد دوسرے سماج کے علاقہ میں جاتا ہے تو یہ ہچکچاہٹ ہوتی ہے ۔ اس کو قطعی طور پر بھید بھاو کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔ دراصل یہ سماجوں کے درمیان موجود عدم اعتماد کو بیان کرتا ہے ۔


دوسرا مقصد یہ ہے کہ جب میں اہل خانہ سمیت وہاں رہا تو مسلمانوں کو لے کر جو وہم ان کے ذہن میں تھا وہ دور ہوگیا ۔ بدلتے وقت کے ساتھ میں یہ نہیں کہوں گا کہ مخصوص علاقوں میں رہنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے کم بھی نہیں ہوا ہے ۔ لوگ آج بھی اپنے سماج کے ، اپنے مذہب ، اپنی ذات کے مطابق مثلا مسلمان مسلم علاقوں میں ، اعلی ذات کے لوگ اعلی ذات کے علاقوں میں اور دلت دلت علاقوں میں رہنا چاہتے ہیں ۔ اس روایت کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ زیادہ سماجی میل جول کی ضرورت ہے ، جس کا فی الحال فقدان ہے ۔


سیاست


گزشتہ تین دہائیوں سے سیاست میں ذات ، مذہب اور علاقائیت کی دھار مزید تیز ہوگئی ہے ۔ ووٹوں کے اعتبار سے یہ ایک تریاقی کوشش ہے لیکن ملک کے اتحاد کے اعتبار سے یہ ملک کو توڑنے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ترقی کی سیاست نہیں ہوئی ہے ، لیکن ابھی بھی یہ کوشش کچھ ہی ریاستوں تک محدود ہے ۔ ترقی کیلئے کوشش کرنی ہوتی ہے ، لیکن تنازع کیلئے ٹویٹر ، ٹی وی پر دئے گئے کچھ بیانات ہی کافی ہوتے ہیں ۔ باقی آپ لوگ سمجھدار ہیں ۔


میڈیا


یہاں میڈیا کو اخلاقیات کا درس دینا خود کو آئینہ دکھانے جیسا ہے ، لیکن جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے ، اس سے منہ موڑا نہیں جاسکتا ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے کئی مشہور اینکروں کیلئے مسلمان کا نام یعنی ملائی دار ٹی آر پی کا انتظام بن چکا ہے ۔ ذرا سوچئے ، کتنے شوز اور کتنی خبروں میں مسلمانوں کی بے روزگاری ، بھکمری ، نا خواندگی پر بحث ہوئی ہے ۔ اگر آپ کو ایسا شو مل جائے تو مجھے ضرور ٹیگ کیجئے گا ۔ حقیقت ہے ایسے شوز بہت کم ہی ہوئے ہیں ۔ سماج کو بیدار کرنے کا کام میڈیا کا ہے ، لیکن اگر وہ 24 گھنٹے یہ بتانا شروع کردے کہ مسلمانوں میں حلالہ کیسے ہوتا ہے ، تین طلاق کا معاملہ کتنا بھیانک ہے ، تو پھر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عام انسان کے ذہن میں مسلم سماج کے بارے میں کیا رائے بنائی جارہی ہوگی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ نادانستہ طور پر ہوا یا جان بوجھ کر ... پڑھنے والے خود سمجھدار ہیں ۔


سوشل میڈیا


سماجوں کے درمیان نفرت بڑھانے کیلئے سوشل میڈیا کا بھی ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ کسی بھی معاملہ میں کئی مرتبہ تجزیوں کی بارش ہونے لگ جاتی ہے ۔ وہ کون لوگ ہیں جو خاص ایجنڈے کے تحت ایشوز کی بجائے سماجوں کو اپنے ٹویٹر اور فیس بک پر نشانہ بنانے کی مہم چلاتے ہیں ۔ یہ جاننا ضروری ہے ۔


آخر میں ابھی بھی تاخیر نہیں ہوئی ہے ۔ دونوں سماجوں کو عدم اعتماد کو ختم کرنے کیلئے پہل کرنی ہوگی ۔ لیڈروں سے زیادہ امید کرنا بے ایمانی ہوگی ، لیکن آنے والی نسلیں تو ایک ہندوستان میں رہیں ، لیکن ان کے دلوں میں کئی ہندوستان پیدا ہوجائے ، اس کو روکنے کیلئے ٹھوس کوششیں کرنی ہوں گی ۔ اگر آپ لوگ سننے میں ناکام ہیں تو کل مت کہیئے گا کہ اب تو دیر ہوگئی ... ابھی بھی اعتماد کی گاڑی اسٹیشن پر ہی ہے ... جے ہند ۔


مضمون نگار افسر احمد نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام کے ایک سینئر ایڈیٹر ہیں ۔
First published: Jan 04, 2020 05:04 PM IST