کیرالہ جیسی ریاست کی ذمہ داری ملنا ایک بڑا موقع: عارف محمد خان کی نیوز18 اردوکی ایکسکلوزیوبات چیت

کیرالہ کونومنتخب گورنرعارف خان نےکہا کہ گورنرکےطورپرجنوب میں انہیں کام کرنےکا موقع دیا گیا ہے، اس عہدہ پررہتےہوئے وہ ملک کےاتحاد اورتنوع کےلئےکام کریں گے۔

Sep 01, 2019 11:22 PM IST | Updated on: Sep 01, 2019 11:22 PM IST
کیرالہ جیسی ریاست کی ذمہ داری ملنا ایک بڑا موقع: عارف محمد خان کی نیوز18 اردوکی ایکسکلوزیوبات چیت

سابق مرکزی عارف محمد خان کوکیرالہ کا گورنربنائےجانےکے بعد نیوز18 سے ایکسکلوزیوبات چیت کرتے ہوئےکہا کہ کیرالہ جیسی ریاست کی ذمہ داری ملنا ایک بڑا موقع ہےکیونکہ کیرالہ میں بڑاترقی پسندانہ نقطہ نظرہے، کیرالہ ملک کا سب سے زیادہ لٹریسی فیصد والی ریاست ہے، میں اترپردیش میں پیدا ہوا جوملک کےایک کونے میں ہےجبکہ کیرالہ دوسرے حصے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سےہندوستان کی تنوع اورعظمت سمجھنے میں مدد ملےگی۔ عارف محمد خان نےکہا گورنرکا کام آئین کے تحت کام کرنےکا ہے، چاہےملک میں کسی کی بھی حکومت ہو۔

عارف محمدخان نےکہا کہ اپوزیشن کی طرف سےالزام لگایا جانا ہی جمورہت کی نشانی ہے۔ جمہوری بحث کے سہارے چلتا ہے۔ عارف محمد خان نےکہا کہ سب کےساتھ ملنا اورریاست کےنمائندوں کےساتھ ملنا ان کا کام ہے۔ انہوں نےکہا کہ پانی کی حالت سنگین ہوئی ہے اور ہمیں اپنی طرززندگی کوبہتربنانےکی ضرورت ہے۔ تین طلاق قانون کی حمایت کرنے والے کیرالہ کونومنتخب گورنرعارف خان نےکہا کہ گورنرکے طورپرجنوب میں انہیں کام کرنےکا موقع دیا گیا ہےاوراس عہدہ پررہتے ہوئے وہ ملک کےاتحاد اورتنوع کےلئےکام کریں گے۔ عارف محمد خان نے کہا کہ ہم اپنی روایات اوراقدارسے دورہوئےہیں، اس لئے ملک کے سامنے کچھ مسائل پیدا ہورہےہیں۔ انہوں نےکہا کہ ہمارے لئے سب سے اہم اپنی تنوع کا احترام کرنا ہے۔

Loading...

واضح رہےکہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے4 نئےگورنرمقررکئےہیں جبکہ ہماچل پردیش کےگورنر کلراج مشرا کا تبادلہ کرکےانہیں راجستھان کا نیا گورنرمقررکیا گیا ہے۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سےاتوارکوجاری ریلیزکے مطابق عارف محمد خان کوکیرالہ کا گورنرمقرر کیا گیا ہے جبکہ بھگت سنگھ کوشیاری کومہاراشٹرکا گورنربنایا گیا ہے۔ ڈاکٹرڈی سندرراجن تلنگانہ کی گورنرمقررکی گئی ہیں جبکہ بنڈارودتاتریہ کو ہماچل پردیش کا گورنرمقررکیا گیا ہے۔

کون ہیں عارف محمد خان

اترپردیش کے بلند شہرمیں 1951 میں پیدا ہوئےعارف محمد خان کے خاندان کا تعلق بارا بستی سے ہے۔ بلند شہرضلع میں 12 گاؤوں کوملاکربنےاس علاقے میں ابتدائی زندگی گزارنے کےبعد عارف محمدخان نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی، اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورلکھنؤ کے شیعہ کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔  طالب علمی کی زندگی سے ہی عارف محمد خان سیاست سے وابستہ ہوگئے تھے۔ بھارتیہ کرانتی دل نام کی مقامی پارٹی کے ٹکٹ پرپہلی بارعارف محمد خان نے بلند شہرکی سیانا سیٹ سے اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا، لیکن ہارگئے تھے۔ پھر26 سال کی عمرمیں 1977 میں عارف محمد خان پہلی باررکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

کب کانگریس میں شامل ہوئے عارف محمد خان؟

رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد عارف محمد خان نے کانگریس کی رکنیت اختیارکرلی اور 1980 میں کانپورسے اور 1984 میں بہرائچ سے لوک سبھا الیکشن جیت کررکن پارلیمنٹ بنے۔ اسی دہائی میں شاہ بانوکیس چل رہا تھا اورعارف محمد خان مسلم خواتین کے حقوق کی زبردست حمایت میں مسلمانوں کی ترقی پسندی کی وکالت کررہے تھے، لیکن سیاست اورمسلم معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ان خیالات کی مخالفت میں نظرآرہا تھا۔ 1986 میں شاہ بانومعاملے میں راجیوگاندھی اورکانگریس کے اسٹینڈ سے ناراض ہوکرعارف محمد خان نے پارٹی اوروزیرعہدے کو چھوڑدیا۔

کیا تھا شاہ بانومعاملہ؟

دراصل 1978 میں پیشے سے وکیل احمد خان نے اپنی پہلی بیوی شاہ بانوکو تین بارطلاق کہہ کرطلاق دے دیا تھا۔ شاہ بانو یکساں سول کوڈ کی دلیل لے کرگزارا بھتہ مانگنے کے لئے اپنے شوہرکے خلاف عدالت پہنچ گئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے بھی شاہ بانو کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ حال ہی میں مودی حکومت کے ذریعہ تین طلاق پرقانون کومنظوری دینے کے بعد بھی عارف محمد خان نے اس کی حمایت کی تھی۔

Loading...