شاہ بانومعاملے میں راجیوگاندھی کے خلاف محاذ کھولنے والے عارف محمد خان بنےکیرالہ کے گورنر

اترپردیش کے بلند شہرمیں 1951 میں پیدا ہوئے عارف محمد خان کے خاندان کا تعلق بارا بستی سے ہے۔ بلند شہرضلع میں 12 گاؤوں کوملا کربنےاس علاقےمیں ابتدائی زندگی گزارنے کے بعد عارف محمدخان نےدہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی۔

Sep 01, 2019 04:43 PM IST | Updated on: Sep 01, 2019 05:07 PM IST
شاہ بانومعاملے میں راجیوگاندھی کے خلاف محاذ کھولنے والے عارف محمد خان بنےکیرالہ کے گورنر

عارف محمد خان کوکیرالہ کا گورنر نامزد کیا گیا ہے۔

نئی دہلی:  صدررامناتھ کووند نے 4 نئے گورنرمقررکئےہیں جبکہ ہماچل پردیش کےگورنر کلراج مشرا کا تبادلہ کرکےانہیں راجستھان کا نیا گورنرمقررکیا گیا ہے۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سےاتوارکوجاری ریلیزکے مطابق عارف محمد خان کوکیرالہ کا گورنرمقررکیا گیا ہے جبکہ بھگت سنگھ کوشیاری کومہاراشٹرکا گورنربنایا گیا ہے۔ ڈاکٹرڈی سندرراجن تلنگانہ کی گورنرمقررکی گئی ہیں جبکہ بنڈارودتاتریہ کو ہماچل پردیش کا گورنرمقررکیا گیا ہے۔

شاہ بانومعاملہ میں کانگریس چھوڑنےوالے سابق مرکزی وزیر عارف محمد خان جج پی سداشیوم کی جگہ لیں گے، جن کی گورنرکے طورپرمدت کار31 اگست کو ختم ہوگئی ہے۔

اس وقت کےوزیراعظم راجیو گاندھی سے اختلافات ہونےکےبعد عارف محمد خان کانگریس چھوڑکرجنتادل میں شامل ہوگئے تھےاورجنتادل حکومت میں مرکزی وزیرٹرانسپورٹ بنے تھے۔ اس کے بعد وہ جنتادل سے ناطہ توڑ کربہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوگئےتھے۔ 2004 میں وہ بی جے پی میں شامل ہوئے، اس کےبعد انہوں نے2007 میں بی جے پی چھوڑدی تھی۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ سے تین طلاق بل منظورہونے پراس کی حمایت بھی کی تھی۔

Loading...

کون ہیں عارف محمد خان

اترپردیش کے بلند شہرمیں 1951 میں پیدا ہوئےعارف محمد خان کے خاندان کا تعلق بارا بستی سے ہے۔ بلند شہرضلع میں 12 گاؤوں کوملاکربنےاس علاقے میں ابتدائی زندگی گزارنے کےبعد عارف محمدخان نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی، اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورلکھنؤ کے شیعہ کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔  طالب علمی کی زندگی سے ہی عارف محمد خان سیاست سے وابستہ ہوگئے تھے۔ بھارتیہ کرانتی دل نام کی مقامی پارٹی کے ٹکٹ پرپہلی بارعارف محمد خان نے بلند شہرکی سیانا سیٹ سے اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا، لیکن ہارگئے تھے۔ پھر26 سال کی عمرمیں 1977 میں عارف محمد خان پہلی باررکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

Arif Mohammad Khan1

کب کانگریس میں شامل ہوئے عارف محمد خان؟

رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد عارف محمد خان نے کانگریس کی رکنیت اختیارکرلی اور 1980 میں کانپورسے اور 1984 میں بہرائچ سے لوک سبھا الیکشن جیت کررکن پارلیمنٹ بنے۔ اسی دہائی میں شاہ بانوکیس چل رہا تھا اورعارف محمد خان مسلم خواتین کے حقوق کی زبردست حمایت میں مسلمانوں کی ترقی پسندی کی وکالت کررہے تھے، لیکن سیاست اورمسلم معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ان خیالات کی مخالفت میں نظرآرہا تھا۔ 1986 میں شاہ بانومعاملے میں راجیوگاندھی اورکانگریس کے اسٹینڈ سے ناراض ہوکرعارف محمد خان نے پارٹی اوروزیرعہدے کو چھوڑدیا۔

کیا تھا شاہ بانومعاملہ؟

دراصل 1978 میں پیشے سے وکیل احمد خان نے اپنی پہلی بیوی شاہ بانوکو تین بارطلاق کہہ کرطلاق دے دیا تھا۔ شاہ بانو یکساں سول کوڈ کی دلیل لے کرگزارا بھتہ مانگنے کے لئے اپنے شوہرکے خلاف عدالت پہنچ گئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے بھی شاہ بانو کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ حال ہی میں مودی حکومت کے ذریعہ تین طلاق پرقانون کومنظوری دینے کے بعد بھی عارف محمد خان نے اس کی حمایت کی تھی۔

Loading...