உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Agnipath Scheme: اگنی پتھ اسکیم واپس لینے کا کوئی سوال نہیں، یہ نوجوانوں کیلئے سنہرا موقع : فوجی سربراہ

    Agnipath Scheme: اگنی پتھ اسکیم واپس لینے کا کوئی سوال نہیں، یہ نوجوانوں کیلئے سنہرا موقع : فوجی سربراہ ۔ فائل فوٹو ۔

    Agnipath Scheme: اگنی پتھ اسکیم واپس لینے کا کوئی سوال نہیں، یہ نوجوانوں کیلئے سنہرا موقع : فوجی سربراہ ۔ فائل فوٹو ۔

    Agnipath Scheme : اگنی پتھ بھرتی اسکیم کو لے کر فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا ہے کہ رول بیک کا کوئی سوال نہیں ہے ۔ یہ اسکیم نوجوانوں کیلئے ایک بڑا سنہرا موقع ہے

    • Share this:
      نئی دہلی : اگنی پتھ بھرتی اسکیم کو لے کر فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے نے کہا ہے کہ رول بیک کا کوئی سوال نہیں ہے ۔ یہ اسکیم نوجوانوں کیلئے ایک بڑا سنہرا موقع ہے، اس کو کئی فوائد کے ساتھ ان کی بھلائی کیلئے بنایا گیا ہے اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ اسکیم کی تفصیل کو باریکی سے دیکھیں، افواہوں سے دور رہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اگنی پتھ سے متعلق NSA اڈوبھال نےکہا- ہندوستان نوجوان ملک، اس کی توانائی استعمال کی جائے


      سی این این نیوز 18 کو دئے ایکسکلوزیو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک کیلئے اور سماج کیلئے کچھ کرنے کا سنہرا موقع اس اسکیم کے ذریعہ مل رہا ہے ۔ اس میں پرکشش سیلری دی جائے گی اور چار سال کے بعد سروس فنڈ پیکج بھی دیا جائے گا ۔ اسکیم کے تحت انہیں وہ سبھی الاونسیز دئے جائیں گے جو فوج کے جوانوں کو دئے جاتے رہے ہیں ۔ وہیں جوانوں کی طرح ہی انہیں چوٹ لگنے یا موت ہوجانے کی صورت میں انہیں معاوضہ دیا جائے گا ۔


      یہ بھی پڑھئے: ادھو حکومت پر بحران کے درمیان ترجمان سنجے راوت کا بڑا دعویٰ


      جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ یہ اسکیم وزارتوں اور سرکاروں کے ذریعہ اعلان پوسٹ ایک خیال نہیں ہے، اس سب کا نوٹیفکیشن امور میں ذکر کیا گیا ہے اور نوجوانوں کو اس کا باریکی سے جائزہ لینا چاہئے ۔ ایک نوجوان جو چار سالوں تک فوج میں اور فوج کے ساتھ رہے گا، اس میں ڈسپلن اور دیگر کوالیٹی آجائے گی۔

      جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ چار سال بعد جب وہ فوج سے سماج میں لوٹیں گے تو ان کے پاس فوج کے تجربہ کی پونجی بھی ہوگی اور سماج انہیں فخر کی نظر دیکھے گا ۔ ان کیلئے روزگار کے کئی مواقع ہوں گے۔ اب نوجوانوں کو یقین ہورہا ہے اور احتجاج ختم ہورہا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: