ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیاں نا قابل فراموش، مجاہدین آزادی کی حیات و خدمات پر مبنی تصاویر کی نمائش

جشن جمہوریہ کے موقع پر بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ایم پی یونٹ کے زیر اہتمام بھوپال میں مجاہدین آزادی کی حیات و خدمات پر مبنی تصاویر کی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ تصاویر نمائش میں 1747 سے لے کر 1947 تک کی تحریک آزادی کی روشن تاریخ کو تصاویر کی زبانی پیش کیا گیا تھا۔ نمائش کے انعقاد کا مقصد مجاہدین آزادی کی قربانیاں، ملک کی یکجہتی کے پیغام کرنا اور نئی نسل کو اس سے روشناس کرانا تھا۔

  • Share this:
مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیاں نا قابل فراموش، مجاہدین آزادی کی حیات و خدمات پر مبنی تصاویر کی نمائش
مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیاں نا قابل فراموش

بھوپال: آزادی اور آزاد فضا توسب کو اچھی لگتی ہے، مگر آزادی اور آزاد فضا کو بنانے اور اس قائم رکھنے کے لئے خون جگر کو صرف کرنا پڑتا ہے۔ جنت نشاں ہندوستان کو انگریز حکمرانوں نے تحفہ میں رکھ کر آزادی نہیں دی تھی بلکہ اس کے لئے لاکھوں کی تعداد میں ملک کے جیالوں نے مادر وطن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا تب جا کر یہ آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا تھا۔ ملک کی آزادی کے لئے بلا لحاظ قوم وملت نے سبھی نے اپنی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں، مگر اس میں مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیاں سنہری لفظوں میں لکھی ہوئی ہیں۔

جشن جمہوریہ کے موقع پر بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ایم پی یونٹ کے زیر اہتمام بھوپال میں مجاہدین آزادی کی حیات و خدمات پر مبنی تصاویر کی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ تصاویر نمائش میں 1747 سے لے کر 1947 تک کی تحریک آزادی کی روشن تاریخ کو تصاویر کی زبانی پیش کیا گیا تھا۔ نمائش کے انعقاد کا مقصد مجاہدین آزادی کی قربانیاں، ملک کی یکجہتی کے پیغام کرنا اور نئی نسل کو اس سے روشناس کرانا تھا۔




تصاویر نمائش میں ہی آئین کا پیغام ہندوستانیوں کے نام کے عنوان سے مذٓاکرہ کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر منوج شرما نے کہا کہ اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ نئی نسل کو مجاہدین آزادی کی عظیم قربانیوں سے واقف کرایا جائے۔ ہماری نئی نسل آزادی کے نام پر صرف چند ناموں کو جانتی ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ آزادی کے نام پر جو چند نام لئے جاتے ہیں، اس سے بڑی قربانیاں بھی دی گئیں ہیں اور ان مجاہدین آزادی کے نام وقت کی گرد میں دب گئے ہیں۔ ہمیں آج کے دن مجاہدین آزادی کو یاد کرنے کے ساتھ آئین کے تحفظ کا بھی عہد کرنا چاہئے۔ ہمارا آئین کسی ایک قوم، فرقہ یا مسلک کی بات نہیں کرتا ہے بلکہ اس نے سبھی ہندوستانیوں کو یکساں حقوق دیئے ہیں۔ پروگرام کے مہمان ذی وقار ڈاکٹر خورشید عالم نے اپنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجاہدین آزادی کی تاریخ سے نئی نسل کو روشناس کرانے کا کام صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہمارا بھی ہے، جس طرح سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے قدم اٹھایا ہے، اس کو آگے بڑھانے اور جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔



پروگرام کے کوآرڈینٹیر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے سرپرست وزیر انصاری نے مذاکرہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کہ نئی نسل گاندھی جی کے قاتل کا نام تو جانتی ہے، مگر گاندھی جی کے محافظ بخت میاں انصاری کے نام سے واقف نہیں ہے۔ چمپارن ستیہ گرہ میں گاندھی جی کی حفاظت کے لئے بخت میاں انصاری نے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ آج ہمیں سبھی قوموں کے مجاہدین آزادی ان کی روشن تاریخ اور قربانیوں کو یاد کرنے کی جتنی ضرورت ہے، اس سے زیادہ ضرورت ملک کے آئین کے تحفظ کی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو آئین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے بارے میں بتانا ہوگا۔ یہ ملک کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں ہے بلکہ آزادی کی اس جنگ میں سبھی قوموں کے سرداروں نے اپنی جانوں کا نذانہ پیش کیا تھا۔


ممتاز دانشور سراج علیگ کہتے ہیں کہ یہاں آکر تو میری حیرت کی انتہا ہی نہیں رہی، جن مجاہدین آزادی کے بارے میں صرف نام سنا تھا، آج ان کی تصویر بھی دیکھی اور ان کے کارناموں کو بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ جنگ آزادی کی جب بھی بات ہوتی ہے تو اس میں دہلی سے میرٹھ تک کے علاقے کو نمایاں طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آج پہلی بار وسط ہند اور دکن کے مجاہدین آزادی کے بارے میں قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ سچ کہوں تو آج کا دن زندگی کا حاصل ہے۔
وہیں آصفہ یاسمین کہتی ہیں کہ آج اگر یہاں نہیں آتی تو زندگی کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ نمائیش میں کسی ایک قوم کے لوگوں کی تصاویر کو پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس میں ہندو مسلم سکھ بودھ جین سبھی کے مجاہدین آزادی شامل ہیں۔ ہم ابھی تک تحریک آزادی میں خواتین میں صرف لکشمی بائی، بیگم حضرت محل، کستورا گاندھی کے نام کو جانتے تھے، مگر یہاں پر بڑی تعداد میں خواتین مجاہدین آزادی کو تصویروں کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔ میں تو یہی چاہوں گی کہ اس طرح کی نایاب نمائش کا اہتمام سال میں ایک بار نہیں بلکہ بار بار کیا جانا چاہئے تاکہ نئی نسل اس روشن تاریخ سے واقف ہوسکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 26, 2021 11:54 PM IST