உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: نیوز 18 اردو کی خبر کے بعد چوڑی فروش کی پٹائی کرنے والے گرفتار

    چوڑی فروش کی بری طرح سے پٹائی کرتے ہوئے شرپسند عناصر

    چوڑی فروش کی بری طرح سے پٹائی کرتے ہوئے شرپسند عناصر

    ریاست میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان جاری سیاست کے بیچ نیوز 18 اردو کی خبر پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہوئے اندور پیٹائی معاملہ میں نہ صرف 16 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے بلکہ اس معاملے میں دو لوگوں کی گرفتاری کرکے آگے کی کاروئی شروع کردی ہے۔

    • Share this:
    اندور: مدھیہ پردیش کے اندور بان گنگا کے گووند نگر علاقہ میں چوڑی فروش کی شر پسند عناصر کے ذریعہ پیٹائی کئے جانے اور پولیس کی سرد مہری پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاست عروج پر ہے۔ کانگریس نے نہ صرف پولیس انتظامیہ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ پولیس انتظامیہ کو قانون کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کے اشارے پر کام کرنے اور شر پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ وہیں بی جے پی کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کانگریس پر جہادی طاقتوں کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔ ریاست میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان جاری سیاست کے بیچ نیوز ایٹین اردو کی خبر پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہوئے اندور پیٹائی معاملہ میں نہ صرف 16 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے بلکہ اس معاملے میں دو لوگوں کی گرفتاری کرکے آگے کی کاروئی شروع کردی ہے۔

    پولیس انتظامیہ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ پولیس انتظامیہ کو قانون کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کے اشارے پر کام کرنے اور شر پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔
    پولیس انتظامیہ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ پولیس انتظامیہ کو قانون کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کے اشارے پر کام کرنے اور شر پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔


    بی جے پی ترجمان نیہا بگا کہتی ہیں کہ ریاست میں کانگریس اپنی سیاسی ساکھ کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف طالبانی ذہنیت بلکہ جہادی طاقتوں کو فروغ دے رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اندور کے جس چوڑی فروش کو لے کر کانگریس کے ذریعہ اوچھی سیاست کی جارہی ہے، اس کے ذریعہ اندور بان گنگا کے گووند نگر میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی۔ یہ شیوراج سنگھ کی سرکار ہے، یہاں پرکسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائے گا اور جو بھی ماں بہنوں بییٹیوں کی عزت سے کھلواڑ کرے گا، اسے 10 فٹ گہرے گڈھے میں گاڑنے کا بھی کام ہوگا۔ چوڑی بیچنے والے نہ صرف اپنی پہچان چھپائی تھی بلکہ اس کے پاس دو دو آدھار کارڈ بھی پائے گئے تھے، جس کی تفتیش کی جارہی ہے۔

    ی جے پی ترجمان نیہا بگا کہتی ہیں کہ ریاست میں کانگریس اپنی سیاسی ساکھ کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف طالبانی ذہنیت بلکہ جہادی طاقتوں کو فروغ دے رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
    ی جے پی ترجمان نیہا بگا کہتی ہیں کہ ریاست میں کانگریس اپنی سیاسی ساکھ کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف طالبانی ذہنیت بلکہ جہادی طاقتوں کو فروغ دے رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔


    وہیں کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کا کہنا ہے کہ مافیا کو 10 فٹ گہرے گڈھے میں گاڑنے کا دعوی کرنے والی حکومت کی ناک نیچے ہی کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ چوڑی فروش کا ویڈیو دیکھنے اور سنئے اس میں وہ شخص صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ بہن جی چوڑی لے لیجئے، اس کے باوجود چند لوگوں کے ذریعہ بے رحمی سے پٹائی کی گئی ہے۔ میں خود اندور گیا تھا اور شرپسدوں کے خلاف ایف آئی آر لکھنے میں کئی گھنٹے لگا دیئے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ وزیر داخلہ اندور کے انچارج ہیں اور ان کے ضلع میں پولیس مظلوم کی مدد کرنے کے بجائے شر پسندوں کی پشت پناہی میں مصروف ہے۔ پولیس پر حکومت کا کتنا دباؤ تھا یہ ہم نے دیکھا ہے۔ اب چوڑی فروش پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے شناخت چھپائی تھی تو میں سرکار یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اب اس ملک میں کاروبار کرنے کے لئے ذات اور برادری کے نام کی تختی گردن میں لٹکانی ہوگی۔

    کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کا کہنا ہے کہ مافیا کو 10 فٹ گہرے گڈھے میں گاڑنے کا دعوی کرنے والی حکومت کی ناک نیچے ہی کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔
    کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کا کہنا ہے کہ مافیا کو 10 فٹ گہرے گڈھے میں گاڑنے کا دعوی کرنے والی حکومت کی ناک نیچے ہی کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔


    وہیں اندور ایسٹ ایس پی آشوتوش باگری کہتے ہیں کہ بان گنگا تھانہ علاقہ میں پیش آئے واقعہ میں وائرل ویڈیو کی بنیاد پر شناخت کرکے دو لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس میں معاملے میں اب تک 16 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ آگے کی کارروائی جاری ہے اور جن لوگوں کے ذریعہ تھانہ کا گھیراؤ کرکے سرکاری کام میں رخنہ اندازی کرنے اور امن و قانون کو ہاتھ میں لینے کا کام کیا گیا ہے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: