ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی میں ایک ہی دن میں کورونا کے11ہزارسے زائد کیسیز!14اسپتال مکمل طور پرکووڈمریضوں کے لئے مختص

دہلی میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کے 11,491 کیس درج کیے گئے ہیں۔ یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جس کے بعد فعال کیسوں کی تعداد 38,095 کی حد پار کرگئی ہے۔

  • Share this:
دہلی میں ایک ہی دن میں کورونا کے11ہزارسے زائد کیسیز!14اسپتال مکمل طور پرکووڈمریضوں کے لئے مختص
دہلی میں کورونا کا قہر :دہلی میں ایک ہی دن میں 11 ہزار مثبت معاملے ریکارڈ

ہندوستان کے مختلف شہروں میں اب بھر کورونا وائرس (Covid-19) کی وبا شدت اختیار کرگئی ہے۔ دہلی میں کورونا وائرس کی مثبت شرح 24 گھنٹوں کے عرصے میں 9.43 فیصد سے بڑھ کر 12.44 فیصد ہوگئی ہے۔اسی ضمن میں وزیراعلی اروند کیجریوال نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ کورونا کے بحران سے نمٹنے اور ویکسین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے انتظامیہ کی تیاری کا جائزہ لیا جاسکے۔


کووڈ۔19 سے متاثرہ مریضوں کے علاج اور بستر کی فرہمی کے لیے انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں بستروں کو بڑھانے کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس سے متعلق تمام پروٹوکول پرعمل کریں۔ جب تک شدید ضرورت نہ ہو، تب تک اسپتالوں میں نہ جائیں اور کورونا ویکسین کو حاصل کرنے والے اہل افراد ویکسین کو جلد سے جلد حاصل کریں۔


دہلی میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کے 11,491 کیس درج کیے گئے ہیں۔ یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ جس کے بعد فعال کیسوں کی تعداد 38,095 کی حد پار کرگئی ہے۔


دہلی کے کون کونسے اسپتال میں کورونا کا علاج ہورہاہے؟

دہلی میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 92,397 ٹیسٹ کئے گئے ہیں اور 74,397 افراد کو کورونا کی ویکسین دی گئی ہے۔

دارالحکومت دہلی میں بستروں کی تعداد بڑھانے کے لئے 14 سرکاری اور نجی اسپتالوں کو ’مکمل کووڈ۔19 اسپتال‘ قرار دیا گیا ہے۔ جن کے نام یہ ہیں: اندرا پرشتا اپولو(Indraprashta Apollo)، سر گنگارام (Sir Gangaram)، ہولی فیملی (Holy Family)، مہاراجا اگرسن (Maharaja Agarsen)، میکس ایس ایس شالیمار باغ (Max SS Shalimar Bagh)، فورٹس ایس ایس (Fortis SS)، شالیمار باغ (Shalimar Bagh)، میکس اسمارٹ سپر اسپیشیلٹی (Max Smart Super Speciality)، وینکٹیشر اسپتال (Venkateshar Hospital)، سری بالاجی ایکشن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (Sri Balaji Action Medical Institute)، جے پور گولڈن اسپتال (Jaipur Golden Hospital)، ماتا چنن دیوی اسپتال (Mata Chanan Devi Hospital)، پشپاوتی۔ سنگھنیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (Pushpavati Singhania Research Institute)، منیپال اسپتال (Manipal Hospital) اور سروج سپر اسپیشلائٹی اسپتال (Saroj Super Speciality Hospital)۔

کیجریوال نے کہا ہے کہ ’ہمیں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بستروں کی دستیابی کو گزشتہ برس نومبر کے مساوی کرنے کو یقینی بنانا چاہئے اور ہم مرکزی حکومت سے مزید درخواست کریں گے کہ وہ مرکزی سرکاری اسپتالوں میں بھی کووڈ بیڈ میں اضافہ کریں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’دہلی میں کووڈ۔19 کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ وائرس کی نئی لہر پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لیے بیڈز کی تعداد میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے‘۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے جاری کردہ ایک آرڈر کے مطابق نجی اسپتالوں میں سے 57 میں سے کووڈ آئی سی یو بیڈز کی قابلیت 85 فیصد سے زیادہ کو عبور کر چکی ہے اور قریب قریب تمام بڑے نجی اسپتالوں میں 100 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ 115 نجی اسپتالوں میں سے 32 میں کووڈ وارڈ بیڈز کی تعداد 85 فیصد سے زیادہ کو عبور کرچکی ہے اور یہ بڑے نجی اسپتالوں میں یہ تعداد 100 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ کووڈ آئی سی یو بیڈ (Covid ICU bed) کی گنجائش نومبر 2020 کی سطح تک پہنچنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ 33 میں سے 19 اسپتال میں آئی سی یو بیڈز کے بکنگ کو 50 سے 80 فیصد بڑھایا جائے اور باقی 115 میں سے 82 اسپتال میں 50 تا 60 فیصد بڑھایا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برس11 نومبر کو دہلی میں سب سے زیادہ کیس 8,593 ریکارڈ کیے گئے تھے۔

مزید برآں 101 نجی اسپتالوں میں 60 فیصد بستر کووڈ۔19 مریضوں کے لیے مختص کیا جائے اور وہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد وہ صرف کووڈ سے متعلقہ علاج کے لئے ہی مخصوص ہوں گے۔ دہلی حکومت کے زیر انتظام اسپتالوں میں مزید 493 بستروں کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

وزیر صحت ستیندر جین نے سینئر بیوروکریٹس کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کی۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ وہ اسپتالوں میں کووڈ۔19 بیڈوں کی موجودہ تعدا 1,090 میں اضافہ کریں۔ جب کہ نومبر 2020 میں دہلی میں 4000 بیڈ تھے۔ جب بھی کورونا کی وبا عروج پر تھی۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 13, 2021 12:19 PM IST