ہوم » نیوز » وطن نامہ

سپریم کورٹ نے مرکز کے حکم پر لگائی مہر ، غیرملکی جانور اور پرندے رکھنے والوں کیلئے دیا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے اتوار کو کہا ہے کہ غیر ملکی جانور اور پرندے رکھنے والے لوگ اگر دسمبر تک ان کی جانکاری عام کردیتے ہیں ، تو ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلے گا ۔

  • Share this:
سپریم کورٹ نے مرکز کے حکم پر لگائی مہر ، غیرملکی جانور اور پرندے رکھنے والوں کیلئے دیا بڑا فیصلہ
غیر ملکی جانوروں اور پرندوں کو رکھنے والوں کیلئے راحت کی خبر ، جانکاری دینے والوں پر نہیں چلے گا مقدمہ

سپریم کورٹ نے اتوار کو کہا ہے کہ غیر ملکی جانور اور پرندے رکھنے والے لوگ اگر دسمبر تک ان کی جانکاری عام کردیتے ہیں ، تو ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلے گا ۔ عدالت عظمی نے اس سے مرکزی حکومت کے اس حکم پر مہر لگا دی ہے ، جس میں غیر ملکی جانور یا پرندے رکھنے والوں یا ان کے مالکوں کو پراسیکیوشن سے تحفظ دینے کی بات کہی گئی ہے ۔ عدالت کے مطابق ایسا تبھی ممکن ہے جب وہ عام معافی کے تحت یہ انکشاف کرتے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے ۔


چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو برقرار رکھا ہے ، جس میں کہا گیا تھا کہ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ نہیں چل سکتا ہے جو عام معافی اسکیم کے تحت جون سے دسمبر کے درمیان غیر ملکی وائلد لائف کے تحویل یا قبضہ کا انکشاف کردیں ۔ بینچ نے اس اپیل کو خارج کردیا ، جس میں حکومت کی اسکیم کے باوجود غیر ملکی وائلڈ لائف کے تحویل ، قبضہ اور کاروبار کیلئے جانچ او رمقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔


مرکزی حکومت کی یہ ہے اسکیم


مرکزی حکومت ، ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کے توسط سے پہلے ہی سبھی متعلقہ کو چھ مہینے کے بچاو کا وقت دیتے ہوئے والینٹری ڈسکلوزر اسکیم کو بڑی آبادی کے درمیان فروغ دینے کیلئے شروع کیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ شروع کی گئی اس اسکیم کو سبھی محکموں کے ذریعہ فروغ دیا جائے گا ۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ چھ مہینے کی اس مدت میں جو بھی انکشاف کرتا ہے اور اس طرح خود کو رجسٹریشن اور اسکیم کی آگے کی ضروریات کیلئے پیش کرتا ہے ، اس کے لائسنس حاصل کرنے کے ذرائع یا رضاکارانہ طور پر غیر ملکی جانوروں کے اسٹاک کے قبضہ کی کسی بھی جانج سے چھوٹ ہوگی ۔

بتادیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں دنیش چندر نام کے ایک شخص نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا تھا کہ عام معافی اسکیم کے تحت جو لوگ غیر ملکی جانور یا پرندے رکھنے کا انکشاف کرتے ہیں ، ان کے خلاف جانچ ہونی چاہئے ، خواہ ان لوگوں نے عام معافی اسکیم کے تحت ہی جانکاری دی ہو ۔ دنیش چندر کا مطالبہ تھا کہ ایسے معاملات کو غیر قانونی قبضہ اور اسمگلنگ وغیرہ پہلووں کی جانچ ہونی چاہئے ۔

خیال رہے کہ دہلی اور راجستھان ہائی کورٹ میں بھی ایسا معاملہ آیا تھا، جہاں عرضیاں خارج ہوگئی تھیں ۔ تاہم پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے حکومت کی عام معافی اسکیم پر مہر لگائی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 22, 2020 05:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading