உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کی مخلتف ریاستوں میں اسکولوں کا دوبارہ آغاز، کورونا کے بڑھنے کے خدشات، احتیاط ضروری

    Youtube Video

    پنجاب میں انفیکشن کی شرح میں جولائی اور اگست کے درمیان 9.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے اسکول 2 اگست سے دوبارہ کھولے گئے جبکہ بہار ، مدھیہ پردیش ، گجرات اور چھتیس گڑھ میں کوویڈ کیس 2 اور 3 فیصد بڑھ رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کئی ریاستوں میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے فورا بعد بچوں میں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تیسری لہر کی قیاس آرائیوں اور خدشات کے درمیان پنجاب ، بہار ، مدھیہ پردیش ، گجرات ، چھتیس گڑھ ، اتراکھنڈ ، جھارکھنڈ اور چندی گڑھ میں اسکول دوبارہ کھولے گئے۔ وہیں یکم ستمبر 2021 کو دہلی میں اسکولوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ جو کہ صرف نوویں تا بارہویں کی کلاسوں ہوگی۔ کوچنگ کلاسز ، کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ادھردہلی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیاہے۔ دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹرمنیش سسودیا نے نیوز18 سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے خیالات کااظہارکیاہے۔


      پنجاب میں انفیکشن کی شرح میں جولائی اور اگست کے درمیان 9.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کے اسکول 2 اگست سے دوبارہ کھولے گئے جبکہ بہار ، مدھیہ پردیش ، گجرات اور چھتیس گڑھ میں کوویڈ کیس 2 اور 3 فیصد بڑھ رہے ہیں۔

      گجرات میں 26 جولائی کو اسکول کھولے تھے، جبکہ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش نے اگست کے پہلے ہفتے میں اسکول کھولے اور بہار میں اسکول 16 اگست کے بعد کھولے گئے۔

      اتراکھنڈ میں بچوں میں 1.9 فیصد کی مثبت ترین شرح ہے، جہاں 2 اگست کے بعد اسکول کھل گئے۔ صرف چند ریاستوں میں اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد مثبت فیصد میں کمی ریکارڈ کی گئی یا وہاں نئے کورونا کیس ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ کچھ ایسی ریاستیں بھی ہیں، جہاں اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد مثبت فیصد میں منفی اضافہ دیکھا گیا ہے

      دریں اثنا 12 اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں میں زائڈس کیڈیلا کی تین خوراکوں کی COVID-19 ڈی این اے ویکسینیشن اکتوبر میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم ملک بھر کے بہت سے ماہرین یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بچوں کی اندرونی قوت مدافعت انہیں کوویڈ کی تیسری لہر کے دوران متاثر ہونے سے بچائے گی۔ مارچ 2020 میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے بعد ڈیڑھ سال کے طویل وقفے کے بعد سکول دوبارہ کھولے گئے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: