ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ممتا بنرجی پر بھڑکے مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ، کہا-اسدالدین اویسی کو کوئی خرید نہیں سکتا

مغربی بنگال میں الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر بھڑک گئے ہیں۔ اویسی نے کہا ہے کہ آج تک ایسا کوئی آدمی پیدا نہیں ہوا، جو اسدالدین اویسی کو خرید سکے۔

  • Share this:
ممتا بنرجی پر بھڑکے مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ، کہا-اسدالدین اویسی کو کوئی خرید نہیں سکتا
ممتا بنرجی پر بھڑکے مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ، کہا-اسدالدین اویسی کو کوئی خرید نہیں سکتا

نئی دہلی: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات بے حد قریب آنے کے ساتھ ہی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے۔ بنگال میں الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر بھڑک گئے ہیں۔ اویسی نے کہا ہے کہ آج تک ایسا کوئی آدمی پیدا نہیں ہوا، جو اسدالدین اویسی کو خرید سکے۔ واضح رہے کہ ممتا بنرجی (Mamata Banerjee) نے کہا تھا کہ حیدرآباد کی ایک پارٹی کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کا ووٹ تقسیم کرنے کے لئے بی جے پی کروڑوں روپئے خرچ کر رہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے بغیر نام لئے اویسی پر تنقید کی تھی۔ اس پر اب اسدالدین اویسی نے جواب دیا ہے۔


اویسی نے کہا- اپنے گڑھ میں ڈری ہوئی ہیں ممتا بنرجی


اب اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ انہیں کوئی خرید نہیں سکتا۔ ممتا بنرجی کے الزام جھوٹے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ ممتا بنرجی خود اپنے گھر میں خوفزدہ ہوگئی ہیں۔ ان کے ڈھیر سارے لوگ بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے بہار کے رائے دہندگان کی توہین کی ہے۔ ان لوگوں کا، جنہوں نے مجھے ووٹ دیا۔


بنگال میں اویسی کو مانا جارہا ہے خطرے کی گھنٹی

مغربی بنگال میں تقریباً 30 فیصد مسلم آبادی ہے۔ سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں ریاست کی 42 میں سے 18 سیٹیں بی جے پی نے جیتی تھی۔ ووٹ فیصد میں برسراقتدار جماعت ترنمول کانگریس اور بی جے پی میں معمولی فرق رہ گیا تھا، جہاں بی جے پی 40.25 فیصد ووٹ ملے تھے تو وہیں 43.29 فیصد ووٹ ملے تھے۔ مسلمانوں کو لبھانے کی سیاست میں ماہر ممتا بنرجی کے لئے اسدالدین اویسی چیلنج بن سکتے ہیں۔ بہار میں جس طرح سے مسلمانوں نے اسدالدین اویسی کی پارٹی کو ووٹ دیا، اس سے واضح ہے کہ اب ملک میں مسلمان اسدالدین اویسی کو متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ ایسے میں اگر مغربی بنگال میں اسد الدین اویسی کی پارٹی الیکشن لڑتی ہے تو اس کا فائدہ بی جے پی اور نقصان سیدھا ترنمول کانگریس کو ہوگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 16, 2020 04:33 PM IST