உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اکھلیش یادو کو چھوڑ کر اسدالدین اویسی کے ساتھ جائیں گے اعظم خان؟ AIMIM نے دی دعوت

    اکھلیش یادو کو چھوڑ کر اسدالدین اویسی کے ساتھ جائیں گے اعظم خان؟

    اکھلیش یادو کو چھوڑ کر اسدالدین اویسی کے ساتھ جائیں گے اعظم خان؟

    اعظم خان کو یہ خط AIMIM کے ترجمان محمد فرحان نے لکھا ہے۔ فرحان کے مطابق، انہوں نے پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی کی منظوری کے بعد ہی اعظم خان کو خط بھیجا ہے۔ تین صفحات پر مشتمل اس خط میں لکھا گیا ہے کہ ’سماجوادی پارٹی مسلمانوں کی قطعی ہمدرد نہیں ہے۔ وہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح سمجھتی ہے۔

    • Share this:
      الہ آباد: سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی محمد اعظم خان کو لے کر بڑی خبر آرہی ہے۔ سماجوادی پارٹی سے ناراض بتائے جا رہے اعظم خان کو اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) نے اپنی پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ پارٹی نے سیتا پور جیل میں بند اعظم خان کو اس بابت خط بھیجا ہے۔

      اعظم خان کو یہ خط AIMIM کے ترجمان محمد فرحان نے لکھا ہے۔ فرحان کے مطابق، انہوں نے پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی کی منظوری کے بعد ہی اعظم خان کو خط بھیجا ہے۔ تین صفحات پر مشتمل اس خط میں لکھا گیا ہے کہ ’سماجوادی پارٹی مسلمانوں کی قطعی ہمدرد نہیں ہے۔ وہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح سمجھتی ہے۔

      گزشتہ تین سالوں میں اعظم خان اور ان کی فیملی کے لئے اکھلیش یادو اور ان کے سپہ سالاروں نے کوئی ٹھوس آواز نہیں اٹھائی ہے۔ اس لئے اعظم خان سے اپیل ہے کہ وہ ایم آئی ایم میں شامل ہوکر پارٹی کارکنان کی رہنمائی کریں اور اسدالدین اویسی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو سیاسی پہچان دلائیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      جہانگیر پوری میں دوفرقوں میں Violence، پتھراو میں 6 پولیس اہلکار زخمی، کئی دفعات میں کیس درج

      AIMIM لیڈر نے اس کے ساتھ ہی اعظم خان سے جیل میں ملاقات کا وقت بھی مانگا ہے۔ خبر ہے کہ اعطم خان کی منظوری ملنے کے بعد ایم آئی ایم کے بڑے لیڈر جیل جاکر ان سے ملاقات کریں گے، جہاں اعظم خان کو پارٹی میں شامل ہونے کی رسمی دعوت جائے گی۔

      اعظم خان کو دی گئی دعوت کو اسدالدین اویسی کی پارٹی کی مسلم ووٹروں کو سادھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خبر ہے کہ رامپور کے پارٹی لیڈروں کے ذریعہ اعظم خان اور ان کی فیملی تک بھی یہ خط پہنچائی جائے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: