உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تشدد کے بغیرچلانی ہوگی تحریک: اسدالدین اویسی کا خطاب

    مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی: فائل فوٹو

    مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی: فائل فوٹو

    اسدالدین اویسی نے کہا کہ تشدد سے مسئلہ بگڑنے کے قوی امکانات ہیں اس لیے عوام تشدد سے گریز کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو یقینی بنائیں۔

    • Share this:
      شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ کئی علاقوں میں احتجاج نے تشدد کا رخ اختیار کر لیا ۔ کئی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں ۔ اسی دوران کل حیدر آباد میں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ایک عوامی جلسے کا انعقاد کیا ۔ یہ جلسہ حیدر آباد کے دارالسلام میں منعقد کی گئی ۔میٹنگ میں کئی بڑے عالم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وہ2 طالبات جوانٹرنیٹ پر خوب چھائی ہوئی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھی طالب علم کو پولیس کی لاٹھیوں سے بچا لیاتھا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ 'ہندوستانی مسلمانوں نے جناح کے پیغام کو ٹھکرایا ہے اور ملک کے تقسیم کی مخالفت کی تھی۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہم سی اے اے کی مخالفت اس لیے کررہے ہیں کیوں کہ اس میں مذہب کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ہم باہر سے آنے والے پناہ گزینوں کے خلاف نہیں ہے۔

      اسدالدین اویسی نے میٹنگ میں صاف کہا کہ سی اے اے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کی ایک سازش ہے۔ میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ وہ نان بی جے پی ریاستوں میں جائیں گے اور وہاں کی سرکار سے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرے کیونکہ یہ قانون ہندوستان کے آئین کو تباہ کر دے گا۔ میٹنگ میں یہ بھی طے ہوا کہ پُر امن احتجاجوں کی حمایت کی جائے ۔ اور ملک بھر میں احتجاجی جلسوں کا انعقاد کیا جائے اور تقریباً چھ سے سات مہینوں تک احتجاجوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے ۔ اویسی نے وائے ایس آر سی پی لیڈر جگن موہن ریڈی سے کہا کہ وہ بی جے پی کا خیمہ چھوڑ دیں ۔

      اسدالدن اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآبادنے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اتوار سے اپنے مکانات پر ترنگا لہرائیں ۔ اویسی نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج درج کرنے والے ہر شہری بالخصوص مسلمانوں سے گزارش ہے کہ 22 دسمبر سے اپنے مکان کی چھت پر قومی پرچم لہرائیں تاکہ اس سے بی جے پی حکومت کو سی اے اے کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کا پیغام بھیجا جاسکے۔صدر مجلس نے کہاکہ موجودہ حالات کا یہ تقاضہ ہے کہ ہم بلالحاظ مذہب و ملت اپنا احتجاج درج کروائیں اس کیلئے باضابطہ پولیس سے اجازت حاصل کی جائے۔اس بات کا خاص خیال رکھیں گے کہ کہیں پُرتشدد واقعات پیش نہ آئیں اور لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

      انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں بڑی تعداد میں میں غیر مسلم براداران وطن نے اس ظالمانہ قانون کے خلاف احتجاج درج کروایا ہے۔انہوں نے کہاکہ احتجاج جمہوری حق ہے،اس حق کا استعمال کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے کیونکہ بعض شرپسند عناصر احتجاج میں شامل ہوکر اس کو سبوتاج کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس غیر ضروری جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گھس کر طلبہ پر ظلم کرتے ہوئے مارپیٹ کی۔اس جلسہ میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس جلسہ کا اہتمام یونائٹیڈ مسلم ایکشن کمیٹی حیدرآباد نے کیا تھا۔مختلف مسالک و مکاتب سے تعلق رکھنے والے علما، مشائخ، معززین،دانشوروں،سیاسی لیڈروں نے بھی اس جلسہ سے خطاب کیاجنہوں نے واضح کیاکہ این آر سی اور سی اے بی جیسے ظالمانہ قانون کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔


      مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے بی جے پی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ' ہم سے کہا جارہا ہے کہ دنیا میں بہت سے اسلامی ممالک ہیں تو ہمیں ان ممالک مثلاً سعودی عرب، ترکی، ملیشیا وغیرہ سے کیا واسطہ ہے۔ہم ہندوستا میں پیدا ہوئے اور یہیں جئیں گے اور مریں گے، اگر آپ کو ان ممالک سے انتی محبت ہے تو آپ چلے جائیں ہمیں کیوں بھیجنے پر تلے ہوئے ہیں؟۔اس موقعے اسد الدین اویسی نے تمام ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی اپنی چھتوں پربھارتی پرچم لہرانے اور احتجاجی مظاہرے جاری کا مشورہ دیا۔ انہوں نے این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد اور پولیس اہلکاروں کو 1 منٹ کی خاموشی اختیار کر کے خراج عقیدت پیش کیا۔


      اس احتجاجی جلسہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی بربریت پرغم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔علاوہ ازیں اسدالدین اویسی نے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ووٹ دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ آندھراپردیش کے وزیر اعلی کے ذریعہ ترمیم شدہ قانون شہریت سی اے اے کی تائید کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی بھی گزارش کی۔اسدالدین اویسی نے اس تحریک کو مسلسل جاری رکھنے کی صلاح دیتے ہوئے تشدد سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد سے مسئلہ بگڑنے کے قوی امکانات ہیں اس لیے عوام تشدد سے گریز کرتے ہوئے پر امن احتجاج کو یقینی بنائیں۔'اس موقعے پر انہوں نے عوام کو ہندوستانی آئین کے تحفظ کا حلف بھی دلوایا۔ '

      First published: