ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش اسمبلی انتخابات کیلئے اسدالدین اویسی نے بدلا پلان ، AIMIM کے نشانے پر ہیں یہ سیٹیں

AIMIM کو اترپردیش میں بھی ایک سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ 2017 کے انتخابات میں AIMIM کو ریاست کی کافی پرانی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے برابر ووٹ  ملے تھے ۔ 38 میں سے 13 سیٹوں پر اے آئی ایم آئی ایم بی جے پی ، ایس پی اور بی ایس پی کے بعد چوتھے نمبر پر تھی ۔

  • Share this:
اترپردیش اسمبلی انتخابات کیلئے اسدالدین اویسی نے بدلا پلان ، AIMIM کے نشانے پر ہیں یہ سیٹیں
اترپردیش اسمبلی انتخابات کیلئے اسدالدین اویسی نے بدلا پلان ، AIMIM کے نشانے پر ہیں یہ سیٹیں

اترپردیش کے سیاسی گلیاروں میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے بعد اگر کسی پارٹی کی سب سے زیادہ بحث ہورہی ہے تو وہ اسد الدین اویسی کی پارٹی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی ہے ۔ لیکن کیوں ؟ اس پارٹی میں ایسا کیا ہے ، جس کی وجہ سے سیاسی ماحول رفتہ رفتہ گرما رہا ہے ۔ جانئے آخر ایسا کیوں ہے ؟


دراصل 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں اتری 323 پارٹیوں میں سے ایک اے آئی ایم آئی ایم بھی تھی ۔ اس کے 38 امیدواروں میں سے 37 کی الیکشن میں ضمانت ضبط ہوگئی تھی ، پھر بھی اے آئی ایم آئی ایم دھیرے دھیرے یوپی میں اپنی شناخت بناتی جارہی ہے ۔ یوپی میں بھی اس کو ایک سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ 2017 کے انتخابات میں ایم آئی ایم کو ریاست کی کافی پرانی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے برابر ووٹ  ملے تھے ۔ 38 میں سے 13 سیٹوں پر اے آئی ایم آئی ایم بی جے پی ، ایس پی اور بی ایس پی کے بعد چوتھے نمبر پر تھی ۔ اس لئے بھی کیوکہ سنبھل میں اس نے سکینڈ پول کیا تھا اور اس لئے بھی کیونکہ فیروز آؓباد میئر کے الیکشن میں وہ ایس پی کو پیچھے چھوڑ کر بی جے پی کے بعد دوسرے نمبر پر رہی تھی ۔


ایس پی کو کیا پریشان


اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2017 میں اے آئی ایم آئی ایم کی وجہ سے ایس پی کو مراد آباد کی کانٹھ سیٹ گنوانی پڑی تھی ۔ اس الیکشن میں اس کو مزید کچھ ووٹ ملے ہوتے تو ایس پی کئی اور سیٹیں گنوا سکتی تھی ۔ اویسی کے زور کی بحث اس لئے بھی زیادہ ہورہی ہے کیونکہ جس ووٹ بینک پر وہ سواری کرنا چاہتے ہیں اس پر سوار ہوکر سماج وادی پارٹی کئی مرتبہ اقتدار میں آچکی ہے ۔

بہار میں کامیابی سے حوصلوں کو ملی اڑان

اے آئی ایم آئی کی بحث اس لئے بھی ہورہی ہے کیونکہ 2022 کے حالات 2017 سے الگ ہوں گے ۔ سی اے اے ۔ این آر سی اور لو جہاد قانون کے بعد یوپی کا یہ پہلا الیکشن ہوگا ۔ اکھیلیش یادو پر دوسری پارٹیاں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ انہوں نے مسلم طبقہ کے ووٹ تو لئے ، لیکن سی اے اے ۔ این آر سی کے خلاف خاموشی اختیار کی ۔ ایسے میں مسلم سماج کسی اور قیادت کی طرف دیکھ سکتا ہے ۔ اویسی اسی خلا کو پر کرنا چاہتے ہیں ۔ بہار کے انتخابات میں سیمانچل کی پانچ سیٹوں پر انہیں ملی جیت اس کی تازہ مثال ہے ۔ وہاں اویسی کا کیڈر سی اے اے ۔ این آر سی کے معاملہ میں مظاہرین کے ساتھ کھڑا رہا تھا ۔

اس کامیابی سے اویسی کے حوصلے بلند ہیں ، لیکن انہیں لگتا ہے کہ یوپی میں اڑان بھرنے کیلئے حکمت عملی میں تبدیلی ضروری ہوگی ۔ یہ تبدیلی کی جاچکی ہے ۔ اویسی نے 2017 کے مقابلہ 2022 کی حکمت عملی بدل دی ہے ۔

پروانچل نیا ہدف

سال 2017 میں مجلس نے اترپردیش کی 403 میں سے 38 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا ، ان میں مغربی یوپی ، اودھ اور ترائی علاقہ کی سیٹیں شامل تھیں ۔ مغربی یوپی کی کچھ سیٹوں پر تو اس کو کافی ووٹ ملا تھا ، لیکن دیگر جگہوں پر معاملہ حوصلہ افزا نہیں رہا ۔ پروانچل کی ایک بھی سیٹ پر مجلس نے اپنے امیدوار نہیں اتارے تھے ۔ لیکن اس مرتبہ اسد الدین اویسی نے اب پروانچل پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ ان کا حالیہ دورہ پروانچل کا ہوا ۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی سہارے کے بغیر انتخابی کشتی پار نہیں لگائی جاسکتی ہے ، اس لئے انہوں نے ابھی سے ساتھیوں کی تلاش شروع کردی ہے ۔

ان 9 اضلاع پر نظر

پروانچل پر ان کی توجہ یونہی نہیں ہے ۔ ریاست کا یہی وہ علاقہ ہے ، جہاں بی جے پی 2017 میں کمزور نظر آئی تھی اور ایس پی اور بی ایس پی کا بول بالا تھا ۔ اعظم گڑھ ، جونپور ، غازی پور ، مئو ، بلیا ، سنت کبیر نگر ، چندولی ، امبیڈکر نگر اور پرتاپ بڑھ وہ اضلاع ہیں ، جہاں اویسی کو اپنی پارٹی کی کامیابی کا زیادہ امکان نظر آرہا ہے ، اس لئے اویسی ان علاقوں میں سرگرم چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کرتے نظر آرہے ہیں ۔

اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی کے ساتھ لڑائی میں کون آگے نکلتا ہے ۔ حالانکہ یوپی میں سیاسی حیثیت کے ترازو میں مجلس کو ایس پی کے ساتھ تولا نہیں جاسکتا ہے ، لیکن ماحول دلچسپ بن رہا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 23, 2021 02:05 PM IST