உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی ایف آئی پر پابندی سے مشتعل ہوئے اسدالدین اویسی، کہا- کالے قانون سے اب ہرمسلم نوجوان کی ہوسکتی ہے گرفتاری

    اسدالدین اویسی

    اسدالدین اویسی

    مرکزی حکومت کے ذریعہ پی ایف آئی اور اس کی ذیلی تنظیموں پر 5 سال کی پابندی عائد کئے جانے کے خلاف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے سخت تنقید کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے 5 سال کے لئے پابندی عائد کردی ہے۔ پی ایف آئی کے ساتھ اس کے دیگر 8 معاون تنظیموں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ لئے گئے اس ایکشن پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے کہا، ‘جرم کرنے والے کچھ لوگوں کو غلط کام کا یہ مطلب نہیں کہ تنظیم پر ہی پابندی عائد کردی جائے‘۔

      اسدالدین اویسی نے کہا، اس طرح کی پابندی خطرناک ہے۔ یہ ہر اس مسلمان پر پابندی ہے، جو اپنے دل کی بات کہنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’ہندوستان کے کالے قانون، یواے پی اے کے تحت اب ہر مسلم نوجوان کو پی ایف آئی پمفلیٹ کے ساتھ گرفتار کیا جائے گا۔ میں نے یو اے پی اے کی مخالفت کی ہے اور یو اے پی اے کے تحت سبھی کاموں کی ہمیشہ مخالفت کروں گا۔ اسدالدین اویسی نے کہا، یہ پابندی آزادی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔



      دائیں بازو کی اکثریتی تنظیموں پر پابندی کیوں نہیں: اویسی

      اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے سوال کرتے ہوئے کہا، پی ایف آئی پر پابندی لگائی گئی، لیکن خواجہ اجمیری بم دھماکوں کے قصورواروں سے متعلق وابستہ تنظیموں پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ ایسا کیوں؟ حکومت نے دائیں بازو کی اکثریتی تنظیموں پر پابندی کیوں نہیں لگائی؟

      لالو یادو نے دیا یہ بڑا بیان

      واضح رہے کہ اس سے پہلے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر عائد پابندی سے متعلق کہا کہ ایسی تنظیموں پر پابندی لگنی چاہئے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اسی کے ساتھ آر ایس ایس پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ یہ لوگ مسلم تنظیموں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہر بات میں ہندو-مسلم کرتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: