உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Attack on Asaduddin Owaisi: اسدالدین اویسی پر حملے کے معاملے میں ایک اور ملزم گرفتار، پولیس کے ہاتھ لگا ہتھیار دینے والا شخص

    3 فروری کو سچن اور اس کے ساتھیوں نے پلکھوا کوتوالی علاقے کے چھجرسی ٹول پر ایم پی اسد الدین اویسی کو بے خوف طریقے سے نقصان پہنچانے کی نیت سے گولی چلائی، حالانکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گولی اویسی کی گاڑی کی کھڑکی پر جالگی تھی۔

    3 فروری کو سچن اور اس کے ساتھیوں نے پلکھوا کوتوالی علاقے کے چھجرسی ٹول پر ایم پی اسد الدین اویسی کو بے خوف طریقے سے نقصان پہنچانے کی نیت سے گولی چلائی، حالانکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گولی اویسی کی گاڑی کی کھڑکی پر جالگی تھی۔

    3 فروری کو سچن اور اس کے ساتھیوں نے پلکھوا کوتوالی علاقے کے چھجرسی ٹول پر ایم پی اسد الدین اویسی کو بے خوف طریقے سے نقصان پہنچانے کی نیت سے گولی چلائی، حالانکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گولی اویسی کی گاڑی کی کھڑکی پر جالگی تھی۔

    • Share this:
      میرٹھ: یوپی انتخابات(UP Election 2022)سے قبل ہاپوڑ ٹول پلازہ کے قریب اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی پر حملے کے سلسلے میں ایک اور ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم سچن کو اسلحہ دینے والے ملزم کو پولیس نے پکڑ لیا ہے۔ بتا دیں کہ اویسی(Owaisi) پر حملے کے معاملے میں پولیس نے سچن اور شبھم نامی دو نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ اب سچن کو ہتھیار دینے والا ملزم بھی پکڑا گیا ہے۔ 3 فروری کو AIMIM کے سربراہ اسد الدین اویسی کی گاڑی پر دو نوجوانوں نے حملہ کیا جب وہ انتخابی مہم سے دہلی لوٹ رہے تھے۔ وہ کیتھور سے انتخابی ریلی سے خطاب کے بعد دہلی واپس آرہے تھے۔

      ہاپوڑ پولیس نے میرٹھ کے رہنے والے عالم کو گرفتار کیا ہے جس نے اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی پر فائرنگ کے معاملے کے اہم ملزم سچن کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کیا تھا۔ اب پولیس اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ 3 فروری کو سچن اور اس کے ساتھیوں نے پلکھوا کوتوالی علاقے کے چھجرسی ٹول پر ایم پی اسد الدین اویسی کو بے خوف طریقے سے نقصان پہنچانے کی نیت سے گولی چلائی، حالانکہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گولی اویسی کی گاڑی کی کھڑکی پر جالگی تھی۔

      حملے کے کیس میں تیسرے ملزم کی گرفتاری
      چھیجرسی ٹول پلازہ پر ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو لے کر سیاست گرم ہوگئی، اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے پولس نے سچن اور شبھم نامی دو ملزمین کو گرفتار کرلیا تھا۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ پولیس نے سچن اور شبھم سے کارتوس بھی برآمد کئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ میں استعمال ہونے والے دونوں پستول دیسی ساختہ تھے۔ ملزم سچن نے کچھ دن پہلے ہی پستول خریدی تھی۔

      ملزم نے کیے غیر قانونی ہتھیار اور کارتوس سپلائی
      پولیس نے حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد دونوں ملزمین کو گرفتار کرلیا تھا۔ وہی اس معاملے کے پولیس کو 9 ایم ایم کی پستول بھی برآمد ہوئی تھی۔ جب پولیس نے اس معاملے میں باریکی سے جانچ کی تو پولیس نے اہم ملزم سچن کو غیر قانونی ہتھیار اور کارتوس سپلائی کرنے والے عالم کو بھی گرفتار کرلیا۔ پولیس ملزم سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: