உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Election: اویسی کی پارٹی AIMIM نے جاری کی دوسری فہرست، صاحب آباد سے پنڈت منموہن جھا کو ملا ٹکٹ

    UP Election: اویسی کی پارٹی AIMIM  نے جاری کی دوسری فہرست، صاحب آباد سے پنڈت منموہن جھا کو ملا ٹکٹ

    UP Election: اویسی کی پارٹی AIMIM نے جاری کی دوسری فہرست، صاحب آباد سے پنڈت منموہن جھا کو ملا ٹکٹ

    UP Assembly Election 2022 : حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 (UP Election 2022) کیلئے امیدواروں کی اپنی دوسری فہرست جاری کردی ہے ۔ پارٹی کی اس فہرست میں 8 سیٹوں کے امیدواروں کے نام ہیں ۔

    • Share this:
      لکھنؤ : حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM)  نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 (UP Election 2022) کیلئے امیدواروں کی اپنی دوسری فہرست جاری کردی ہے ۔ پارٹی کی اس فہرست میں 8 سیٹوں کے امیدواروں کے نام ہیں ۔ اس سے قبل پارٹی نے اپنی پہلی فہرست میں 9 امیدواروں کو جگہ دی تھی ۔ اے آئی ایم آئی ایم کی دوسری فہرست میں ایک سیٹ پر ایک ہندو امیدوار کو ٹکٹ ملا ہے اور باقی سات پر ایک مسلم امیدواروں کو ٹکٹ ملا ہے ۔

      اے آئی ایم آئی ایم نے دہلی سے متصل یوپی کے غازی آباد کی صاحب آباد سیٹ سے پنڈت منموہن جھا کو میدان میں اتارا ہے ۔ اس کے علاوہ مظفر نگر کی دو سیٹوں اور فرخ آباد، جھانسی، ایودھیا، بریلی اور بلرام پور سے ایک ایک سیٹ کیلئے امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے ۔



      بتادیں کہ اسد الدین اویسی کی پارٹی نے اتر پردیش میں 100 اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ اتوار کو 9 امیدواروں کے اعلان کے ساتھ ہی پارٹی نے ریاست میں اتحاد کی سیاست کے فلسفہ کو بھی ختم کر دیا تھا ۔ اویسی مسلسل سماج وادی پارٹی کے ساتھ رابطے میں تھے اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے تھے، لیکن ایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے اویسی کی پارٹی پر بھروسہ نہیں کیا ۔

      اس سے پہلے اوم پرکاش راج بھر نے اسد الدین اویسی کے ساتھ مل کر بھاگیداری سنکلپ مورچہ کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم یہ مورچہ بھی زیادہ دنوں نہیں چل سکا اور راج بھر اکھلیش یادو کی سائیکل پر سوار ہو گئے ۔ اس کے بعد اویسی کو امید تھی کہ راج بھر انہیں اپنے ساتھ لیں گے اور ایس پی کی رضامندی سے کچھ سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے ، لیکن اکھلیش نے اویسی کی پارٹی کو گلے لگانے سے پرہیز کیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: