உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اشتعال انگیز بیان پر دہلی پولیس کا ایکشن، اسدالدین اویسی و نرسمہانند پر بھی FIR درج

    اسدالدین اویسی اور یتی نرسمہانند کے خلاف کیس درج۔

    اسدالدین اویسی اور یتی نرسمہانند کے خلاف کیس درج۔

    نوپور شرما کو ان کے مبینہ بیان کی وجہ سے پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا اور دہلی بی جے پی کے میڈیا انچارج نوین کمار جندال کو متنازعہ ٹویٹ کرنے پر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی:اشتعال انگیز بیان دینے اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پیغام پھیلانے کے معاملے میں دہلی پولیس نے بڑا ایکشن لیا ہے۔ دہلی پولیس کی IFSOیونٹ نے اشتعال انگیز بیان دینے کے معاملے میں اب اسدالدین اویسی اور سوامی یتی نرسمہانند کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کیا ہے۔ اس سے پہلے دہلی پولیس کی IFSO یونٹ نے نوپور شرما اور نوین جندل سمیت 9 لوگوں کے خلاف ایف آئی درج کی تھی۔

      دہلی پولیس ذرائع کی مانیں تو نفرت انگیز بیانات سے ماحول خراب کرنے والوں پر دہلی پولیس کی سختی جاری رہے گی۔ نوپور شرما اور نوین جندال سمیت 9 لوگوں پر سخت کارروائی کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور سوامی نرسمہانند پر سوشل میڈیا کے ذریعے سماج میں نفرت انگیز پیغامات پھیلانے، جھوٹی اور غیر مصدقہ خبریں پھیلانے، مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور دیگر کئی دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

      ایف آئی آر میں دہلی پولیس کے مطابق نوپور شرما، نوین کمار جندال، شاداب چوہان، صبا نقوی، مولانا مفتی ندیم، عبدالرحمن، گلزار انصاری، انیل کمار مینا اور ہندو مہاسبھا کی پوجا شکون پانڈے کے نام شامل ہیں۔ آئی ایف ایس سی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے پی ایس ملہوترا نے کہا کہ ایف آئی آر مختلف مذاہب کے لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔

      کیسے شروع ہوا تنازعہ
      گزشتہ دنوں، نوپور شرما نے گیانواپی مسجد کے احاطے میں پائے جانے والے مبینہ شیولنگ کے بارے میں ایک ٹی وی مباحثے کے دوران مبینہ طور پر پیغمبر اسلام محمد ﷺکے خلاف متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ نوپور شرما کے اس مبینہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اشتعال انگیز بیانات دیے، جس کو لے کر دہلی پولیس نے کارروائی کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کانپور تشدد: پولیس کمشنر سے ملے سماجوادی پارٹی کے 3 اراکین اسمبلی، کہا- یہ پولیس کی ناکامی

      یہ بھی پڑھیں:
      Kanpur Clash: کانپور میں تصادم کے بعد چوکسی، نماز جمعہ سے قبل انسداد فسادات کی مشقیں

      نوپور شرما کو ان کے مبینہ بیان کی وجہ سے پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا اور دہلی بی جے پی کے میڈیا انچارج نوین کمار جندال کو متنازعہ ٹویٹ کرنے پر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ نوپور شرما کو پیغمبر اسلام کے خلاف اس کے مبینہ بیان کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں، جس کی اس نے دہلی پولیس سے شکایت کی تھی۔ دہلی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا اور نوپور شرما کو سیکورٹی فراہم کی۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: